نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246



 فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246


انتخابات معاشرے میں روداری، آزادانہ اظہار رائے اور باہمی میل جول کا باعث  بنتے ہیں ۔ اگر ایسا نا ہو تو کیا فائدہ پھر اس سب کچھ کا  ؟

بھائی لوگ ہر ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس پہچان میں اصول پسندی اور وعدہ کی پاسداری دو نمایاں خوبیاں ہیں۔ کیوں کہ سارے پیشہ کا دارومدار اسی اصول سے وابستہ ہے۔ مصطفی کمال اچھاہوتا تو کیوں اصول توڑتا ۔؟   البتہ وقت بدل جائے اور حالات کا تقاضہ ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے میں مندرجہ بالا صفات کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی معانی ہوں بھی تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کو تو بس اپنے مقاصد کے حصول کی محنت کرنی ہے اب بھلا ہینگ کم لگے اور رنگ زیادہ، تو اس میں بھائی لوگ کس کھاتے میں مجرم ٹہرے؟ رات گے ایک سیاسی جماعت کے لیڈر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ ان کی پرامن ریلی پر بھائی لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ آپ دوسروں کی "جاگیر" میں بنا اجازت کے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو پھول پیش کریں گے؟  اس سے پہلے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر اپنی ناکام جلسی کو کامیاب قرار دیتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ بھائی لوگوں کی گوشمالی کا فریضہ بھی نبھاتے رہے۔   خیر اگر سونے کا قیمتی لاکٹ اور پشاوری چپل آپ کو پسند نہیں تو اس میں اہل کراچی کا کیا قصور؟

ایک بزرگ  محب وطن پاکستانی، جو 'مہاجر' تھے ۔پاکستان کی محبت میں پاکستانی بن گے۔جی ہاں۔یوں بزرگ حستی  نعمت اللہ خان کراچی کے مئیر بن گے۔ مشرف کا زمانہ تھا۔ خیر اہل کراچی کی بے لوث خدمت، کام کی سچی لگن اور دیانت داری کی وجہ سے خوب شہرت پائی۔ عالمی دنیا میں بھی نام کمایا۔ بہتریں مئیر کا خطاب ان کے سر سجا۔ چار ارب کے بجٹ کو بیالیس ارب  تک پہنچا دیا۔  یہ وصف بس انہیں کا تھا۔ عبدالستار افغانی کے ہم رکاب تھے۔  راشد نسیم صاحب بھی انکی ٹیم کا حصہ تھے۔ البتہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ بھائی لوگ تو آج بھی مہاجر ہیں۔ پھر نعمت اللہ خان صاحب کیونکر پاکستانی ہوئے؟  اب مسئلہ یا تو ہماری سمجھ کا ہے یابھائی لوگوں کی عقل کا۔ ؟

ادھر عمران اسماعیل صاحب کی خوش بختی دیکھیں کہ میڈیا دن رات ان کو ہیرو بنا
Imran Ismail
کر پیش کر رہا ہے تودوسری جانب نعمت اللہ خان صاحب کے خاص تربیت یافتہ امیدوار راشد نسیم صاحب کو یوں اگنور کیا جا رہا ہے ۔۔۔ آخر کیوں؟ کیا تیسری قوت ایسا چاہ رہی ہے؟؟  عمران اسماعیل  صاحب بھی اچھے آدمی ہیں۔ البتہ کمی ہے تو صرف تجربہ کی۔ اور تجربہ اپنی اہمیت آپ ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ رہا بھائی لوگوں کا معاملہ ۔۔۔ جو میڈیا انہیں نہیں دیکھائے گا قائد کا غدار کہلائے گا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔

تاریخی حقائق کے اعتبار سے بھی اورعوام میں مقبولیت کی وجہ سے بھی ، اگر
Rashid Naseem
کوئی مناسب اور مضبوط  امیدوار ہو سکتا ہے تو وہ راشد نسیم صاحب ہیں۔ دوہزار دو میں بتیس ہزار ووٹ لے چکے ہیں۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیانتدار اور قابل بھی ہیں۔ اور ایسے لوگ اکثر ہمیں پسند نہیں آتے یا پھر تیسری  قوت کوسوٹ نہیں کرتے ۔ خیر  کراچی کے اسی علاقے میں، جہاں یہ معرکہ ہونے جا رہا ہے،  ایک لمبے عرصے سے راشد نسیم صاحب اور ان کی جماعت جیتتی بھی رہی ہے اور خدمت کے کاموں میں بھی اپنی مثال آپ رہی ہے۔

میرا مشورہ  تو عمران خان صاحب اور سراج الحق صاحب کو یہی ہو گا کہ راشد نسیم صاحب کو دونوں لیڈر اپنا متفقہ امیدور بنا لیں۔ کراچی کے مخصوص حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ بشرطیکہ دونوں لیڈران  کا مقصد کراچی میں امن اور خوشحالی لانا ہو۔

رہا معاملہ تیسری طاقت کا، جسے عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔ ان کو بھی اب ہوش کے ناغن لینے چاہیے۔ ان کا جھکاو اگر مخصوص سمت ہی رہا تو حالات اور زیادہ خراب ہوں گے۔ نقصان پھر اہل کراچی کا ہی ہو گا۔

پرانی عادتیں جاتے جاتے ہی جاتی ہیں۔ "بلی"  کی دم سیدھی کب ہو گی اس کا انتظار میں بھی کر رہا ہوں اور آپ بھی کرتے رہیں۔ لیکن اگر قیادت درست فیصلہ کر لے تب بھلے  دم  سیدھی نا بھی ہوکم از کم بے لگام  بلی کو گھنٹی ضرور ڈالی جا سکے گی ۔ یوں اسکی عادتیں بھی ٹھیک ہو جائیں گی۔
اہل کراچی ہماری محبت، پیار اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

سگنلز- شاہراہ زندگی کے سگنلز

شاہراہ زندگی پر کامیابی کے سگنلز Muhammad Asim Islamabad