نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میرا جرم کیا ہے؟؟؟


میرا  جرم کیا ہے؟؟؟

سکول میں ٹیچر اپنے شاگرد کو ہوم ورک نہ کرنے کی سزا دیتا ہے۔ پولیس کسی مجرم کو اس کے کردہ گناہ کی سزا دلانے کے لیے عدالت کے روبرو پیش کرتی ہے۔ حکومت پارلیمان کی مدد سے قانون سازی کرتی ہے۔ ملک کے دفاعی ادارے اپنے وطن کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ اور عام شہری ہر محاذ  پر اپنی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔یوں سارا نظام کسی اخلاقی ضابطے کا پابند ہوتا ہے لیکن یہ بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے؟؟
Prof. Ghulam Azam
عام شہری اپنے وطن سے بے لوث محبت کرتا ہے۔ اس کو اس کام کے عوض کوئی مراعات نہیں ملتیں۔ کوئی زمین الاٹ نہیں کی جاتی۔ کوئی قرض معاف نہیں ہوتا۔ بیرون ممالک دوروں کی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے فول پروف سکیورٹی تک کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ اس سب کچھ کے ساتھ اس عام شہری کی ذمہ داری ہے کہ اپنی محنت کی حلال کمائی میں سے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان سنگ دل لیڈروں کی بے لگام عیاشیوں کے لیے ٹیکس کی صورت میں بھتہ بھی بروقت دیتا رہے۔

بات اگر یہیں تک رہتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ایک آس تو ہوتی ہے کہ کبھی نا کبھی تو یہ سیاسی بازی گر،  ووٹ کا کشکول لیے ہم عام شہریوں کی چوکھٹ پر دستک دیتے نظر آئیں گے۔ یوں چند دن ہی سہی ، ایک احساس تفاخر تو ملے گا ہی اپنی اہمیت کا، اپنے بے جان وجود کا۔ لیکن بات اس سے آگے، بہت دور جا چکی ہے۔
قریب کی تاریخ میں روس کا زمانہ سب کو معلوم ہے۔ گرم پانیوں کی تلاش میں جب زورآورسرخ ریچھ افغانستان آ پہنچا تب نام نہاد صاحب اقتدار کو اپنے پیارے ملک کی سالمیت کا بھی خطرہ محسوس ہوا۔ ہو سکتا ہے آپ کو اس بات سے اختلاف ہو، اور آپ روس کے خلاف جدوجہد کو امریکی ڈالروں کی لڑائی کہنے پر اصرار کریں۔ چلو مان لیا آپ کی بات بھی درست ۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جو لوگ اس جنگ میں شریک رہے پورے اخلاص کے ساتھ اور پاکستان سے نظریاتی محبت کی بنا پر اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ جانے والے چلے
Qamer uzaman
گئے۔ اور جو بچ گئے وہ آج غدار وطن کا تمغہ سجائے چھپتے پھرتے ہیں۔ آخر کیوں؟
یہی حال 71 ء میں ، وطن سے محبت کرنے والوں کے ساتھ آج ہو رہا ہے۔ 93 ہزار تو اپنی قید کے دن کاٹ کر آ گئے واپس، لیکن وہ جو بنا تنخواہ کے، بے لوث وطن کی محبت میں اپنی جوانیاں لگاتے رہے، آج اپنے وطن میں غدار وطن ہیں۔ قدرت کی تدبیر کو کون سمجھ سکتا ہے۔ کراچی کے امن کی خاطر 300 پولیس والے اپنی جانوں سے گئے۔ تو وہ جو،  اب اس ریاست کا حصہ ہی نہیں ہیں ان کی کون پرواہ کرے گا؟؟

ایک سال پہلے عبدا لقادر ملا کو پاکستان سے وفا کی سزا دی گئی، پروفیسر غلام اعظم کو ان کی پیرانہ سالی کی عمر میں قید و بند کی صعوبتوں سے نوازا گیا۔ کئی اور محب وطن اس خون آشام دیوی حسینہ واجدکی اندھی عدالتوں کے، گونگے بہرے انصاف کی بھینٹ چھڑ گئے۔ اور دودن پہلے ساٹھ سالہ قمر الزمان اپنے وطن کی محبت میں سولی لٹکا دیے گئے۔ اور وہ جو اس سارے سیاہ نامے کے کردار تھے، جن کی عیاشیوں کے قصے سرعام مشہور تھے،مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تاشقند کے معاہدے، عالمی عدالت انصاف، او۔آئی ۔سی، اور ہیومن رائیٹس کی تنظیمیں۔۔۔ سب کہا چھپ گئی ہیں؟  ان کا چھپنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن وہ کہاں گئے جن سے محبت کا جرم آج ان بے رحم سزائوں کا محر ک ہے؟
Abdul Qadir Mullah

آج ان وفاشعار سپوتوں کی روحیں سوال کرتی ہیں کہ آخر ہمارا جرم کیا ہے؟  کیا دنیا میں کوئی نہیں جو ہمارے حق میں ایک للکار اور ایک توانا پکار لگا سکے؟

میں شرمندہ ہوں اہل وفا۔ تم سب وہ مقام پا گئے ہو جو صالحین اور شہداء کا مقام ہے۔ جنت کا مقام۔ اور ہم یہاں خاکی وردی میں اپنی سر زمین پر ، بوجھ کی صورت زندہ ہیں۔ تم البدر اور الشمس تھے، ہو اور اسی شان کے ساتھ قیامت کے دن اٹھائے جائو گے۔ اور ہم اب یہ سوچ رہے ہیں کہ اب کون ہے جو اس بے لوث کردار کا راہی بنے گا۔ کون ہو گا جو آشفتہ سری کے خمار میں ہماری ڈرٹی پالیسیوں کی زد میں آئے گا۔؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246

 فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA-  246 انتخابات معاشرے میں روداری، آزادانہ اظہار رائے اور باہمی میل جول کا باعث  بنتے ہیں ۔ اگر ایسا نا ہو تو کیا فائدہ پھر اس سب کچھ کا  ؟ بھائی لوگ ہر ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس پہچان میں اصول پسندی اور وعدہ کی پاسداری دو نمایاں خوبیاں ہیں۔ کیوں کہ سارے پیشہ کا دارومدار اسی اصول سے وابستہ ہے۔ مصطفی کمال اچھاہوتا تو کیوں اصول توڑتا ۔؟   البتہ وقت بدل جائے اور حالات کا تقاضہ ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے میں مندرجہ بالا صفات کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی معانی ہوں بھی تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کو تو بس اپنے مقاصد کے حصول کی محنت کرنی ہے اب بھلا ہینگ کم لگے اور رنگ زیادہ، تو اس میں بھائی لوگ کس کھاتے میں مجرم ٹہرے؟ رات گے ایک سیاسی جماعت کے لیڈر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ ان کی پرامن ریلی پر بھائی لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ آپ دوسروں کی "جاگیر" میں بنا اجازت کے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو پھول پیش کریں گے؟  اس سے پہلے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر اپنی ناکام جلسی کو کامیاب قرار دیتے رہے اور ساتھ ...

سگنلز- شاہراہ زندگی کے سگنلز

شاہراہ زندگی پر کامیابی کے سگنلز Muhammad Asim Islamabad