نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وقت کا تکونی تصور (01)

وقت کا تکونی تصور (01)


دو ہزار پندرہ کا آغاز ہو چکا۔ پہلے تین ماہ گزر چکے۔ باقی کے بیت جانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔  آپ بلکہ ہم سبھی نے سال گزشتہ  بہت سے کاموں کو کرنے کی خواہیش کی اور کوشش بھی کی ، لیکن نہیں کرپائے۔  جبکہ  دوسری طرف  ایک طویل فہرست بحس و خوبی سرانجام دیے گے کاموں کی بھی ہے  ۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر ہم اپنی کیفیت کا جائزہ لیں اورآس پاس کےحالات کو دیکھیں  توکسی بہتری کی رمق دیکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ حالات زیادہ خراب معلوم پڑتے ہیں۔ آخر یہ حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟  غلطی کہاں ہو رہی ہے؟  کیا معاملہ غلطی کا ہے یا پھر سمجھ اور فہم کا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ وقت بھی ہماری طرح دوست بناتا ہے۔ لیکن وقت کے دوست  بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وقت بہت کم  لوگوں کی قدر کرتا ہے۔  آپ بخوبی جانتے ہیں کہ دوست ہمیشہ ، دوست کا شکر گزار رہتا ہے۔ مشکل حالات میں دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔ اب وہ تمام لوگ جو وقت کی کمی اور بے رخی کا  رونا روتے ہیں۔ وہ بھلا وقت کے دوست کیونکر ہوسکتے ہیں۔

کتنی دلچسپ بات ہے کہ وقت جن کا دوست ہوتا ہے وہ بھی وقت سے ڈرتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک انجان سا خوف ، اجنبی سا ڈر وقت اپنے دوستوں پر ہمیشہ طاری رکھتا ہے۔ کیا اس کا احساس ہر دوست کو ہوتا ہے؟ نہیں، با لکل بھی نہیں بلکہ صرف وہی دوست اس کو جان پاتے ہیں جو وقت کی  قدرشعوری طور پر کرتے ہیں۔ اپنے دوست کے کھوجانے کا تصور ہی انکے رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے یہ دوست بعض اوقات اپنے بہت قریبی دوستوں کو بھی وقت کی دہلیز پر قربان کردیتے ہیں۔

آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ یہ احساس رکھنے والے لوگ تو بھر ہمیشہ کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے ہوں گے؟ لیکن حقیقت اس کے برعکس منظر دیکھاتی ہے۔ وقت کی قدر کرنےوالےلوگ بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ وقت کی صرف قدر ہی نہیں بلکہ اسکے حقیقی شعورکاادراک ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی اصل ہے وقت کی ،جو کامیابی کا باعث بنتی ہے۔   وقت  اپنے ان قدردانوں پر اتنا احسان  ضرور کرتا ہے کہ ان کوان کے بھیانک انجام  تک  پہنچنے میں کافی مہلت دیتا ہے۔ اگر تو وہ وقت کی آواز کو سمجھ کر اپنے حالات سدھار لیں تو کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ ورنہ ناکامی کو پا لیتے ہیں۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ بلند و بانگ مگر مضبوط بنیادوں پر تعمیر عمارت کو گرنے میں ایک خاص وقت درکار ہوتا ہے جبکہ کمزور بنیادوں پر کھڑی عمارت جلد گرجاتی ہے۔

وقت کا حقیقی فہم کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔   وقت کے اس اصل فہم کو ہی تکونی تصور کا نام دیا جاتا ہے۔  تین حوالوں سے جب آپ وقت کو سمجھ جاتے ہیں تو آپ کو اپنے مسائل کے نا حل ہونے کی اصل اور بنیادی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246

 فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA-  246 انتخابات معاشرے میں روداری، آزادانہ اظہار رائے اور باہمی میل جول کا باعث  بنتے ہیں ۔ اگر ایسا نا ہو تو کیا فائدہ پھر اس سب کچھ کا  ؟ بھائی لوگ ہر ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس پہچان میں اصول پسندی اور وعدہ کی پاسداری دو نمایاں خوبیاں ہیں۔ کیوں کہ سارے پیشہ کا دارومدار اسی اصول سے وابستہ ہے۔ مصطفی کمال اچھاہوتا تو کیوں اصول توڑتا ۔؟   البتہ وقت بدل جائے اور حالات کا تقاضہ ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے میں مندرجہ بالا صفات کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی معانی ہوں بھی تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کو تو بس اپنے مقاصد کے حصول کی محنت کرنی ہے اب بھلا ہینگ کم لگے اور رنگ زیادہ، تو اس میں بھائی لوگ کس کھاتے میں مجرم ٹہرے؟ رات گے ایک سیاسی جماعت کے لیڈر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ ان کی پرامن ریلی پر بھائی لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ آپ دوسروں کی "جاگیر" میں بنا اجازت کے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو پھول پیش کریں گے؟  اس سے پہلے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر اپنی ناکام جلسی کو کامیاب قرار دیتے رہے اور ساتھ ...

سگنلز- شاہراہ زندگی کے سگنلز

شاہراہ زندگی پر کامیابی کے سگنلز Muhammad Asim Islamabad