گھوسٹ کلچر سے امید کی کرن تک
جتنا سوچتا جا رہا ہوں اتنا ہی گھوسٹ کلچر کی د لدل میں
اپنے آپ کو دھنستا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ کبھی آپ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جو
اپنا ہی جسم کھاتا ہو؟ ہاں یہ ضرور سنا ہو
گا کہ لوگ اُسی شاخ گل کو کاٹنے لگ جاتے ہیں، جس پر نشیمن کا سہارا ہوتا ہے۔ البتہ
اب جب کہ عباسی شہید ہسپتال کراچی کی
انتظامیہ والے جاگ ہی گے ہیں۔ یا پھر جگا دیے گے ہیں۔ تو بچارے حماد صدیقی ہمرا ہ
ساز وسامان کے، گنگنا رہے ہونگے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
یہ بات تو کوئی ماہر علم و آدب ہی بتا سکتا ہے کہ محاورہ
ساز نے آخر پتوں کی تمثیل کے
واسطے ہوا کا ذکر کیوں کیا؟ کیا اسے خبر تھی کہ آنے والے
" قدیم" زمانے میں لوگ بجلی جیسی
انمول نعمت سے محروم کر دیے جا ئیں گئے۔۔۔ یادِ بسیار کے گھوسٹ کلچر کا ذکر خیر
سکولوں کی مد میں تو کافی زبان زِعام رہا ہے، اب ہسپتالوں کا نمبر بھی لگ گیا۔۔۔
ویسے ایوان میں جو ممبران چُپ کا روزہ رکھ کر اپنی مدتِ اسمبلی پوری کر کے واپس
غریب عوام کو سدھار جاتے ہیں، اُن کی اس حالت کو کیا کہا جائے؟
دماغ کا کیا کیا جائے کہ سوال پے سوال داغ دیتا ہے۔ امید تو
نہیں لیکن تحقیق واسطے اس بات
کا بھی جائزہ لینا بنتا ہے کہ عباسی شہید ہسپتال میں
کتنے زخمی، اپنے زخموں کے کارن لواحقین کو صدمہ میں تڑپتا چھوڑ گے اور کتنے ایسے
ہیں جن کو ان گھوسٹ شاہی آفسروں نے اوپر پہنچا دیا، کہ مخالف گروہ کا ایک بندہ ہی
سہی، کم
تو ہوا نا۔۔۔۔
تو ہوا نا۔۔۔۔
منچلے لوگ بھی عجیب واضع قطع کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک
منچلے [دل جلے نا سمجھا جائے] سے جب سوال کیا کہ "حضور اگر جان کی امان پاوَں
تو ایک سوال عرض ہو" جواب ظاہر ہے ہاں میں تھا۔ البتہ اس جواب کے ساتھ ایک
لاحقہ بھی تھا اور وہی اصل پریشانی تھی۔ موصوف فرمانے لگے "ہاں ضرور پوچھو۔
تم تو اپنے دوست ہو۔ لیکن دیکھو حد آدب کا لحاظ رکھنا اب مت بھولنا" میں سمجھ
گیا کہ رخ سخن صاف پیغام ہے کہ چپ رہنے میں ہی بھلائی ہے۔ سو ہم چپ رہے۔ "منظور
تھا پردہ تیرا"
ایک تجویز برسوں سے ایوان اقتدار میں براجمان صاحبِ قلم و
کتاب کو ارسال کی تھی۔ لیکن
کون سونے طوطی کی آواز کو اس ہنگام خیز دنیا میں۔ ویسے
بھی" جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا"۔ مطلب یہ کہ جہاں پر کام کی داد
ملے اور واہ واہ کا تڑکا بھی، تو کام کرنے
کا مزہ بھی آتا ہے۔۔۔ ۔اب بھلا سندھ کے تھر میں کام کا کیا فائدہ۔ نہ وہاں ووٹ اور نا
ہی سرمایہ کاری کی گنجائش۔ ہاں بیرونی امداد کی امید ضرور رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ کہ یہی ہے
"گرگس" کا طریق۔۔۔۔ [اقبال سے معذرت کے ساتھ]
سوچ رہا ہوں کہ حماد صدیقی اور ہمنواوَں نے اب تک نہ جانے
کتنی تنخواہیں وصول کی ہوں
گی۔ کیا معلوم یہ رقوم بھی بھائی کوارسال جاتی ہوں؟ کہ
سرکاری کھاتے سے منتقل کی جانے والی ادائیگیوں کو کون چیک کرتا ہے۔ ویسے شاباش دینے
اور ماتھا چومنے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ ارے بھائی کا اتنا تو حق بنتا ہی ہے۔ کتنا
ہوشیار اور مضبوط نیٹ ورک بنایا ہے۔
تجویز یہ عرض کی تھی کہ جن ایم پی ایز، اور ایم این ایز کے
حلقوں میں گھوسٹ سکول، اب البتہ گھوسٹ کلچر کا نام زیادہ بہتر رہے گا، کی نشان دہی
ہو، ان کی رکنیت کو فورا معطل کر دیا جائے۔ تحقیق کے بعد اگر گھوسٹ کلچر ثابت ہو
جائے تو ساری زندگی کے لیے نااہل قرار دے کر، طبعیت کی بہتری کے لیے سزا بھی دی
جائے۔ کیوں ؟ غالب گمان یہ ہے کہ بااثر
افراد جن میں اسمبلیوں کے ممبران اول آتے ہیں، کی سرپرستی کے بنا یہ سب کرنا ممکن
نہیں۔۔۔
یہ تو "آ بیل مجھے مار" والی بات ہو گئی ۔۔۔
معذرت خواہ ہیں جی۔ ایسی تجویز کیوں
دے ڈالی۔ توبہ توبہ۔ عالی جاء بندہ نا چیز معافی کا درخواست گزار ہے۔
دے ڈالی۔ توبہ توبہ۔ عالی جاء بندہ نا چیز معافی کا درخواست گزار ہے۔
سرکاری املاک، مالیات اور اختیارات قوم کی امانت ہوتے ہیں۔
اور قوم کے بچے اس امانت کے اصل حقدار۔ اب حماد صدیقی نے امانت اصل حق دار ہونے کے
نا طے وصول کر ہی لی ہے تو کیوں عدل کی زنجیر حرکت میں آ گئی ہے؟ ویسے اب ہمت کر ہی لی ہے تو بسم اللہ کر کے
تکمیل کو پہچائیے اس کام کو۔ کہ عدل کی زنجیر بھی تاریخ کا حصہ بنتی جارہی تھی۔
قوم کی امیدیں جاگنے لگی ہیں۔ خبر ہے کہ رینجرز کے آفیسر
ایک جگہ جیسے ہی پہنچے تو عام لوگوں نے زندہ باد کے نعرے لگا ئے۔ اگر یہ سچ ہے تو
اب اس عزت اور تکریم کی حفاظت کی ذمہ داری
کلیتا رینجرز پر آتی ہے۔
حالات بدل رہے ہیں۔ راشد نسیم صاحب کی جیت اب عوام پر ہے۔
اگر عوام نے امن، خوشحالی اور انصاف کے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے تو
وقت ہے۔۔۔۔ جاگنے کا اور فیصلہ کرنے کا۔ اب نہیں تو کب؟ راشد نسیم صاحب نہیں تو
کون؟
گھوسٹ کلچر کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی ہیں۔ اس بدلتے منظر
نامے میں بدلتا کراچی قوم کی امید ہے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں