نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وقت کا تکونی تصور [3]

وقت کا تکونی تصور  [3] 


آپ اگر وقت کی قدر صرف اپنے کام کی ترتیب[management]   اور بروقت انجام دہی [well-in-time] کے لیے  کرتے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ ظاہری دنیا میں کامیاب ضرور ہیں لیکن حقیقت میں وقت آپ پر احسان کر رہا ہے کہ آپ کی کچی عمارت کو چند اور ساعتیں بخش رہا ہے جو کہ جلد ختم ہونے کو ہیں۔  جس کے نتیجہ میں آپ اپنی منزل کے قریب پہنچ 
کر ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں گے۔

تیسری قدر:

آپ نے دیکھا کہ وقت ایک نظم کا نام ہے تو ساتھ ہی ساتھ تبدیلی کا پیغام بھی ہے۔ اب تیسری قدر کیا ہوگی؟  پابندی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی اور مسلسل نشونما  (گروتھ)جہاں ضروری ہے وہیں ترجیحات(priorities) کا تعین بھی ضروری بلکہ لازم وملزوم ہے۔یہی وقت کا تیسرا پیغام ہے۔  ہر وقت کئی []تبدیلیاں آپ کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہوتی ہیں۔ 

ہزاروں ضرورتیں آپ کی توجہ کی خواں ہوتی ہیں۔ کئی طرح کے حالات کا سامنا آپ کو کرنا پڑتا ہے ۔ اب کیا ہر ایک کام کو  کرنا ضروری ہے؟ کیا ہر صلاحیت سے آراستہ ہوجانا چائیے؟  یقینا آپ خود کہیں گے کہ ہر کام کوسیکھنا، ہربات کا جواب دینا، اگر ممکن ہو بھی تو کم از کم ضروری تو کسی درجہ میں نہیں کہا جا سکتا۔ بس ان سارے اہم محسوس ہونے والے کاموں میں ضروری اور انتہائی مفید کاموں کو اپنی ترجیحات میں رکھ کر کرنا ہی دراصل کامیابی کی کنجی ہے۔

آئیے  اب ایک نظر دنیا میں آباد مختلف اقوام[nations] پر ڈالتے ہیں۔ اور وقت کے تکونی تصور کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کی کامل حکومت تھی۔ لیکن بھر چند ہزار باہر سے آنے والے انگریزوں نے برصغیر پر مسلمانوں کی مضبوط حکومت کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی ذیلی حکومت (colonial)میں بدل دیا۔ ہزاروں میل کی مسافت پر بسنے والوں نےاس ناممکن کو کیسے ممکن کردیا؟   تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برصغیر کے عوام تقریبا سو فیصد بڑھے لکھے تھے لیکن بھر کیا ہوا کہ سب کچھ ہی نصف صدی [half century]میں تبدیل ہو گیا۔ 
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ سارے ایشیاء سے مسلم حکمرانی اپنے اختتام کو پہنچی اور تاریخ کا ایک باب بن گئی۔ دوسری طرف تاج برطانیہ اپنے عروج کے بعد ماضی کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد روس [USSR]اور امریکہ دنیا کے بادشاہ بنے۔ نوے کی دھاہی میں روس بھی عالمی بادشاہت سے الگ کر دیا گیا۔ اب امریکہ بہادر اکیلا ہی اس تخت پر براجمان ہے۔

اگر ہم ذرا غور کریں تو معلوم ہو گاکہ دنیا  تاج برطانیہ، سلطنت روس، طاقتور جرمن اور جاپان کے بعد اب امریکہ کی کلی طاقت کی محتاج [dependent]نظر آتی ہے۔ اور یہ سب  گزشتہ چند برسوں کی قلیل معیاد میں مکمل ہو ا ہے۔ آخر یہ سب کیوں ہوا؟ کیا امریکہ کا مقابلہ ممکن ہے؟ کیا دینا میں اب کو ئی نئی ظاقت بن پائے گی؟ ماہرین پہلے طاقت کے دو ستون(bipolar world)  پر یقین رکھتے تھے پھر وقت بدلہ اور یک ستون کا تصور سامنے آیا، یہاں تک کہ امریکی تہذیب کو کامل تصور کرتے ہوے دنیا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی کا تابع ہو جانے کا حکم دیا جانے لگا(the end of history)۔ لیکن اب ایک نیا تصور سامنے آچکا ہے، جسے ماہرین معاشی طاقت (soft power)سے تعبیر کرتے ہیں۔ 

دنیا اس وقت کئی معاشی مراکز[economic centers] کے گرد سمٹ رہی ہے۔ گویا امریکہ اس وقت بھی طاقت [hard-power]کا واحد ستون سمجھا جا رہا ہے لیکن ابھرنے والی معاشی طاقتوں کے مفادات کا دھیان رکھنا بھی اب امریکہ کی کمزوری بن چکی ہے جس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ صرف چین کے معاملہ کو لے لیجیے امریکہ اس وقت چین کی معاشی ترقی سے خائف ہے۔

اب آپ غور کیجیے کہ اگر امریکہ کو ذوال [decline]کے سائے ابھی تک اپنے شکنجے میں نہیں جکڑ سکے، تو اس کی واحد وجہ وقت کا تکونی تصور ہے۔ امریکہ اور اس کے وارثین مسلسل وقت کی بدلتی ضرورتوں کو خود آگے بڑھ کر پورا کرنے(proactive) اور دنیا کو اپنی ایجادات (innovations)کے تابع رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کی ہر نئی ایجاد کا تعلق کسی نا کسی دائرے میں امریکہ سے جا ملتا ہے۔ یہی ترجیحات امریکہ کو افغانستان اور عراق لیکر آئیں۔ اب جب امریکہ اپنے اہداف [objectives]کی ضرورتوں کو بدلتا دیکھ رہا ہے تو جنگ کے شعلے مسلم حکمرانوں اور رعایا کے درمیان بھڑکا دیے ہیں۔ داعش اور یمن کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔


آپ  اپنے آپ کا جائزہ لیں۔ زندگی کی جتنی بہاریں آپ گزار چکے ہیں۔ اسی طرح پاکستان بھی اپنی عمر کے ستر سال گزارنے کو ہے۔ کیا ماضی کے مقابلہ میں، ہم اپنے حال اور مستقبل کو وقت کے اس تکونی تصور کی روشنی میں سنوار دینے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم دنیا میں صرف کشکول ہی لیے پھرتے رہیں گے یا دنیا میں اپنے وجود سے کوئی روشنی بھی بکھیریں گے۔ ایسی روشنی کہ جس کے بعد اندھیرے نا ہوں، محرومیاں نا بچیں۔ نفرتیں ختم ہوں۔ خودی اور عزت ہمارا مقدر بن جائے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

وقت کا تکونی تصور (01)

وقت کا تکونی تصور (01) دو ہزار پندرہ کا آغاز ہو چکا۔ پہلے تین ماہ گزر چکے۔ باقی کے بیت جانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔  آپ بلکہ ہم سبھی نے سال گزشتہ  بہت سے کاموں کو کرنے کی خواہیش کی اور کوشش بھی کی ، لیکن نہیں کرپائے۔  جبکہ  دوسری طرف  ایک طویل فہرست بحس و خوبی سرانجام دیے گے کاموں کی بھی ہے  ۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر ہم اپنی کیفیت کا جائزہ لیں اورآس پاس کےحالات کو دیکھیں  توکسی بہتری کی رمق دیکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ حالات زیادہ خراب معلوم پڑتے ہیں۔ آخر یہ حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟  غلطی کہاں ہو رہی ہے؟  کیا معاملہ غلطی کا ہے یا پھر سمجھ اور فہم کا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وقت بھی ہماری طرح دوست بناتا ہے۔ لیکن وقت کے دوست  بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وقت بہت کم  لوگوں کی قدر کرتا ہے۔  آپ بخوبی جانتے ہیں کہ دوست ہمیشہ ، دوست کا شکر گزار رہتا ہے۔ مشکل حالات میں دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔ اب وہ تمام لوگ جو وقت کی کمی اور بے رخی کا  رونا روتے ہیں۔ وہ بھلا وقت کے دوست کیونکر ہوسکتے ہیں۔ کتنی دلچسپ بات ہے...

فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246

 فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA-  246 انتخابات معاشرے میں روداری، آزادانہ اظہار رائے اور باہمی میل جول کا باعث  بنتے ہیں ۔ اگر ایسا نا ہو تو کیا فائدہ پھر اس سب کچھ کا  ؟ بھائی لوگ ہر ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس پہچان میں اصول پسندی اور وعدہ کی پاسداری دو نمایاں خوبیاں ہیں۔ کیوں کہ سارے پیشہ کا دارومدار اسی اصول سے وابستہ ہے۔ مصطفی کمال اچھاہوتا تو کیوں اصول توڑتا ۔؟   البتہ وقت بدل جائے اور حالات کا تقاضہ ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے میں مندرجہ بالا صفات کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی معانی ہوں بھی تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کو تو بس اپنے مقاصد کے حصول کی محنت کرنی ہے اب بھلا ہینگ کم لگے اور رنگ زیادہ، تو اس میں بھائی لوگ کس کھاتے میں مجرم ٹہرے؟ رات گے ایک سیاسی جماعت کے لیڈر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ ان کی پرامن ریلی پر بھائی لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ آپ دوسروں کی "جاگیر" میں بنا اجازت کے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو پھول پیش کریں گے؟  اس سے پہلے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر اپنی ناکام جلسی کو کامیاب قرار دیتے رہے اور ساتھ ...