تعلیمی ایمرجنسی، فنڈز اور ملاح Educational Emergency, Funds and Mallah ملاح نے۔۔۔۔۔ تاحدِ نگاہ پھیلے ہوئے سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔۔۔ جناب عالی ! آبِ رواں کا یہ خوب صورت منظر، یعنی نیل گوں سمندر ، اپنے اندر کئی خزانے چھپائے، مدتوں سے۔۔۔۔ پُر سکون انداز میں رواں دواں ہے۔ اس کے اُس پار۔۔۔۔۔ لاکھوں باہمت نوجوان بستے ہیں، جن کی آنکھوں میں۔۔۔۔ امید کی چمک ۔۔۔۔ اِن کے جذبوں کی ترجمان ہے ۔ اس بستی میں۔۔۔ بے شمار معاشی مواقع ہیں، لیکن یہ نوجوان۔۔۔ سمندر کے اس پار نہیں آسکتے، کیوں؟ جناب عالی ! سمندر کا یہ خاموش ماحول انہیں یہاں آنے میں ۔۔۔ رکاوٹ ہے۔ جبکہ یہاں اس طرف کے بستی والے، جن کے پاس لاتعداد وسائل ہیں یہ بھی۔۔۔ اُس پار نہیں جا سکتے۔ جناب عالی ! اگر آپ ان کو، دوسروں کے ساتھ ، باہم مل کر ، سیکھنے کا ماحول ...
اب سمجھ آتی ہے کربلا کا سانحہ کیسے ہوا ہو گا۔ لخت جگر، نواسہ رسول، کیسے شہید کردیے گے ہوں گے اور باقی مسلمان کیوں کر خاموش رہے ہوں گے۔ تب میڈیا نہیں تھا، اور کمیونیکیشن سست رفتار تھی۔ 9 ارب کی دنیا میں آج دو ارب خود کو مسلمان کہتے ہیں، جبکہ بیس لاکھ کربلا میں تنے تنہا اپنا سب کچھ لٹا رہے ہیں اور باقی اربوں ذندہ لاشیں، واللہ یہ بیس لاکھ ہی دراصل ماننے والے ہیں اور باقی سب وہ "جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود" باقی سب کو چھوڑیں ہم اپنی بات کرتے ہیں۔ کیا ہم اساتذہ رب کے حضور ان بچوں اور معصوموں کے قتل نا حق کا جواب دیں پائیں گے؟ جب رب العالمین، پوچھیں گے اے فلاں میرے ماننے والے جنہیں میں حرم کعبہ سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا ان کے قتل پر تمہاری خاموشی اور زباں بندی کیوں تھی؟ کیا تم اپنے طلبہ کو اس کربلا کا شعور تک دینے سے قاصر تھے ؟ تب ہم میں سے کون ہے جو بار گاہ رب العزت ...