نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہمارا رویہ ____ حل کیا ہے؟؟؟




Muhammad Asim
Islamabad

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

کربلا، فلس ط ین، کیسے ممکن ہوا ؟

 اب سمجھ آتی ہے کربلا کا سانحہ کیسے ہوا ہو گا۔  لخت جگر، نواسہ رسول، کیسے شہید کردیے گے ہوں گے  اور  باقی مسلمان  کیوں کر خاموش رہے ہوں گے۔  تب میڈیا نہیں تھا،  اور  کمیونیکیشن سست رفتار تھی۔  9 ارب کی دنیا میں  آج دو ارب  خود کو  مسلمان کہتے ہیں، جبکہ  بیس لاکھ کربلا میں  تنے تنہا  اپنا سب کچھ لٹا رہے ہیں اور باقی اربوں ذندہ لاشیں،  واللہ  یہ بیس لاکھ ہی  دراصل ماننے والے ہیں اور باقی سب  وہ  "جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود"  باقی سب کو  چھوڑیں ہم اپنی بات کرتے ہیں۔  کیا ہم اساتذہ  رب کے حضور ان بچوں اور معصوموں کے  قتل نا حق کا  جواب دیں پائیں گے؟  جب رب العالمین،  پوچھیں گے اے فلاں  میرے ماننے والے  جنہیں میں حرم کعبہ سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا ان کے قتل پر  تمہاری خاموشی  اور زباں بندی  کیوں تھی؟  کیا تم  اپنے طلبہ کو  اس کربلا کا شعور تک دینے سے قاصر تھے ؟  تب  ہم میں سے کون ہے جو بار گاہ رب العزت ...

وقت کا تکونی تصور (01)

وقت کا تکونی تصور (01) دو ہزار پندرہ کا آغاز ہو چکا۔ پہلے تین ماہ گزر چکے۔ باقی کے بیت جانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔  آپ بلکہ ہم سبھی نے سال گزشتہ  بہت سے کاموں کو کرنے کی خواہیش کی اور کوشش بھی کی ، لیکن نہیں کرپائے۔  جبکہ  دوسری طرف  ایک طویل فہرست بحس و خوبی سرانجام دیے گے کاموں کی بھی ہے  ۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر ہم اپنی کیفیت کا جائزہ لیں اورآس پاس کےحالات کو دیکھیں  توکسی بہتری کی رمق دیکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ حالات زیادہ خراب معلوم پڑتے ہیں۔ آخر یہ حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟  غلطی کہاں ہو رہی ہے؟  کیا معاملہ غلطی کا ہے یا پھر سمجھ اور فہم کا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وقت بھی ہماری طرح دوست بناتا ہے۔ لیکن وقت کے دوست  بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وقت بہت کم  لوگوں کی قدر کرتا ہے۔  آپ بخوبی جانتے ہیں کہ دوست ہمیشہ ، دوست کا شکر گزار رہتا ہے۔ مشکل حالات میں دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔ اب وہ تمام لوگ جو وقت کی کمی اور بے رخی کا  رونا روتے ہیں۔ وہ بھلا وقت کے دوست کیونکر ہوسکتے ہیں۔ کتنی دلچسپ بات ہے...