نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بیانیہ [ اسلام و ریاست]






بیانیہ
اسلام و ریاست
یوں تو اختلاف رائے کو، اپنی حدود میں، رحمت کا مقام حاصل ہے۔ خود نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اختلافات پیش آئے تھے۔ جن کو طرفین کی بات سن کر حل کردیا جاتا تھا۔ ایسا ہی واقع حضرت عمر فاروق رضی اللہ سے وابستہ ہے۔ جب ایک صحابی کو سورۃ   ق کی تلاوت کرتے سنا تو اختلاف کیا۔ دونوں صحابی آپ  صلعم  کے پاس تشریف لے گے، ساری بات بیان کی گئی،  جس پر نبی مہربان نے واضع کیا کہ "قرآن سات قرآت میں نازل ہوا ہے، جس میں چائے تلاوت کرو ۔۔۔۔۔۔" اسی طرح جب آپ صلعم صحابہ کے ساتھ بیت للہ کی زیارت کے لیے مدینہ سے تشریف لے جارہے تھے، تو کفار مکہ نے مسلمانوں کو روک دیا، اس موقع پرحضرت عثمان غنی مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے کفار  مکہ سےبات چیت کرنے گے۔ انکے شہید کردیے جانے کی افواہ  پر مسلمانوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔۔۔۔۔ آپ صلعم نے مسلمانوں سے بیت لی [بیت رضوان]۔ اس وقت بھی معاملہ کے حل کے لیے اختلاف کیا گیا تھا ۔ حق مہر کے تعین کا بیان۔ حضرت ابوبکر صدیق کا زکوۃ کی وصولی کا بیان۔ الغرض اختلافات ہوئے اور انکو قرآن و حدیث کی روشنی میں حل کیا جاتا رہا۔
اسلام کی فکر کو ہر دور میں بیانیہ دیا گیا ہے۔ لیکن ان سب بیانیوں کو قرآن و سنت سے سجایا گیا ہے۔ کہیں ایسا نہیں ہوا کہ قرآن و حدیث کے حوالوں کو اپنی مرضی سے مرتب کیا گیا ہو اور اس کو رد نا کیا گیا ہو۔ ابتدائی دور میں خارجی فتنہ اٹھا تھا۔ ہمارے خطہ میں احمدیوں  اور لاہوری فتنے پیدا ہوئے۔ لیکن ان سب کی باتوں کو دلیل سے رد کیا گیا۔
 ہر صاحب فکر کو قرآن  خود، فہم و فکر کی اور علم کے سمندرمیں غوطہ زن ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیشہ انسان کو ٹھیک اور غلط کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے۔ کہیں کہا "رحمان کے بندے" اور کہیں کہا "متقین و صالحین"۔اسی طرح کہیں ضالین  اور فاجر ین کا تذکرہ کیا۔  یہاں تک کہ آخرت کے باب میں بھی جنت اور دوزخ کا ذکر ملتا ہے۔جبکہ  کسی تیسری صورت کو بیان نہیں کیا گیا۔[اعراف والوں کو بھی بالآخر حتمی فیصلہ دیا جائے گا۔  الغرض اللہ نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے کتاب اور رسولوں کو مبعوث کیا۔ تمام نبی ، ابن آدم کو سیدھی راہ ہی کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اس دعوت میں انبیاء نے اپنی ساری زندگیاں کھپا دی، جب جا کے فرض کی ادائیگی کی تکمیل ہوئی۔  نبی مہربان صلعم آخری پیغمبر اور قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ مسلمانوں کے لیے رہنمائی کی اصل بنیاد یہی ہیں [میں تمہارے ردمیان دو چیزوں کو چھوڑ کے جا رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب قرآن اور دوسری میری سنت-حدیث]
 پولیٹیکل سائنس کے طالب علم کی حیثیت سے جب ہم جدید ریاست کی بنیادی ہیئت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو واضح ہوتا ہے کہ ریاست اپنی متعین حدود میں،ان قوانین [دستور]کو،جس کو وہ اپنے وجود کے لازمی حصہ کےطور پر اختیار کر لیتی ہے ،  اہل اقتدار کے زریعے ، اپنی رعایا پر نافذ کرنے کی تدبیرکرتی ہے۔ یعنی عام فہم انداز میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست کو کوئی نا کوئی مسلک یا نظریہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ جسے آج کی اصطلاح میں دستور کہتے ہیں۔ اگر ریاست ایسا کوئی دستور واضح طور پر نہ اپنائے تواس صورت میں ریاست کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی سوائے اس کے کہ چند لوگ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے باہم تعاون کرنے لگیں۔ ماضی کی بادشاہتیں، کلونیل ازم کا سارا دور ، آج کی جدید ریاستیں،  بغور دیکھا جائے تو کوئی نہ کوئی نظریہ یا مسلک ان ریاستوں سے ضرور وابستہ رہا ہے، اور اب بھی ہے۔ بین الممالک اتحاد، معاشی گروپ اور فلاحی ادارے کسی نظریے کی ہی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر برکس کا قیام عالمی مالیاتی ادارے آئی-ایم-ایف کے مقابلے کے لیے وجود میں آیا ہے۔
ایک صاحب فکر "رد بیانیہ" [22 جنوری 2015] میں لکھتے  ہیں کہ "لہذا یہ خیال با لکل بے بنیاد ہے کہ ریاست کا بھی کوئی مذہب ہوتا ہے۔ اور اسکو بھی کسی قرار داد مقاصد کے زریعےسے مسلمان کرنے اور آئینی طور پراسکا پابند بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا"  موصوف خفیف پیرائے میں قرارداد مقاصد کو طنزیہ بیان کرتے ہوئے اپنی ایسی بات کو دلیل دنیے کی کوشش کرتے ہیں جس کو خود عقل سلیم بھی ماننے کو تیار نہیں ہو گی۔ یہاں مسئلہ پاکستان کی اساسی بنیادوں سے بہت آگے کا ہے۔ یہ مسئلہ مسلمان ریاست کی بنیاد کا ہے۔مسلمانوں کے نظم اجتماعی کی بنیاد کیا ہو گی؟ اس حوالے سے قرآن و حدیث کیا رہنمائی دیتے ہیں؟  کیا مسلمان اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ وہ ایک ایسی ریاست تشکیل دیں  جس کا مقصد اسلام کی ترویج و اقامت ہو؟
اللہ تعالی فرماتے ہیں "بیشک نہیں کوئی حکم سوائے اللہ کے " ایک جگہ فرمایا " اطاعت کر و اللہ کی اور اللہ کے رسول کی" اسی طرح  مسلمانوں کے آپس کے معاملات مِیں اور ریاست  کے معاملات کی انجام دہی کے لیے  رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا "جب تم میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹا دو" یعنی حتمی فیصلہ اسلام کا ہی ہو گا۔
معاذ بن جبل کو جب سفیر بنا کے بھیجا تو پوچھا "لوگوں کے درمیاں فیصلہ کیسے کیا کرو گے"۔ اگر ریاست کو مذہب سے کوئی واسطہ نہیں یا پھر ریاست مذہب کی پابندی سے آزاد ہے۔ تب معاذ بن جبل سے اس بارے میں کیوں سوال کیا جاتا ہے؟ پھر معاذ بن جبل کا جواب جس میں وہ بہت واضح الفاظ میں فرماتے ہیں " قرآن کی تعلیمات اور آپ  صلعم کی ہدایات کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، اور ضرورت پڑنے پر قیاس سے ۔۔۔۔۔"
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسلام کسی ایسی حکومت کو تسلیم کرسکتا ہے کہ جس میں صرف انسانی عقل کی بنیاد پر قانون سازی کی جانے لگے؟ بالفرض مان بھی لیا جاَئے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تب کیا ریاست ایسے قوانین بھی بنائے گی جن کو اسلام کسی صورت برداشت نہیں کرتا؟ جس کی ممانعت مسلمہ ہے۔  جیسا کہ ہم جنس پرستی کا قانون ، زانی کی سزا، شراب نوشی [ حدود للہ]۔ یا کیا ایسے عوامل کو ریاست اپنی قوت سے روک سکے گی ، جب کہ اسلام ان کے نفاذ کی ہدایت دیتا ہو؟ یا ایسے قوانین جن کو اسلام تسلیم نہیں کرتا؟  پھر وہ کیا بنیادی اخلاقیات ہوں گی جس کی بنیاد پر ریاست اسلام کے ان قوانین کو نافذ کرے گی جن کا نفاذ ریاست کے ہی ذمہ ہیں ؟؟  جب ریاست کسی ایک مذہب کی ہی رہنمائی کی روشنی میں قانون سازی کرے گی تب ریاست کی حیثیت کیا ہو گی [کسی مذہب کو مانے بغیر]؟  
جیسا کہ ہم میثاق مدینہ میں دیکھتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں حتمی فیصلہ کا حق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ یہاں اسلامی ریاست کا پہلا دستوری خاکہ بنا تھا۔  بعد میں کلی طور پر مسلمان اس ریاست کے صاحب اقتدار ٹھہرے تھے۔ کیا یہ بات ثابت نہیں کرتی کہ ریاست کو کسی ایک تصور کو بالاتر ماننا ہو گا؟ جیسا کہ اللہ کے نبی آخری فیصلہ کا اختیار رکھتے تھے۔  پھر مکہ سے ہجرت کر کے ایک ریاست کی تشکیل، ریاست کا پورا نظام بنانا، مختلف ممالک سے روابط، اور مکہ کو فتح کر کے پوری ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے عام معافی کا اعلان کرنا، یہ سب ایک نظم اجتماعی کا اساسی خاکہ نہیں ہیں کیا؟ یہ بات خود کتنی عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ "بیشک اللہ کہ نزدیک دین تو صرف اسلام ہے" کے بعد ایسی کوئی ریاست نہ ہو جو اس دین کے قیام کی کوشش کرے؟ کیا ریاست کو کسی قائدے کا پابند نا بنانا ویسا ہی نہیں ہو گا جیسے کشتی کو سمندر کی بے رحم لہروں کے بھروسہ پر چھوڑ دیا جائے؟ ایک گھر بنا کر کھلا رہنے دیا جاَئے تاکہ جس کا جو دل چاہے آکر اس میں کرتا رہے۔ ایسا شخص پاگل تو ہو سکتا ہے عقل مند نہیں۔
 آج ہر تصور جس کا تعلق خواہ مذہب سے ہے یا سیکولر سوچ سے، اپنے نظریات کو کسی خطہ پر نافذ کیے بنا  قابل تقلید نہیں بنتا۔ آپ لاکھ کتابیں لکھ ڈالیں، لیکن کوئی عملی خاکہ پیش نا کر سکیں، تو ایسا کام ایک خواب تو ہو سکتا ہے لیکن قابل بھروسہ ہر گز نہیں بن سکتا۔  خود سرد جنگ کے اختتام پر امریکی مفکرین نے "اینڈ آف دی ہسٹری"  کا فلسفہ اور نعرہ بلند کردیا تھا۔ جس کا واضع پیغام تھا کہ اب انسان اپنی تہذیب کی معراج کو پہنچ گیا ہے، جس کا رہبر امریکہ ہے۔ اب ساری دنیا اسی تہذیب کی رہبری میں آگے بڑھے گی۔۔۔۔۔
جہاد جس کو اللہ چند قوانین کا پابند بناتا ہے، کیا ایسی ریاست جس کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہو، وہ کیونکر ان حدود کی پابندی کرے گی اور کیونکر ان مقاصد کے لیے جہاد کرے گی، جن کو صرف اسلام پیش کرتا ہے ؟؟  اسلام میں جزیہ کا تصور بہت واضح ہے۔ یہ جزیہ ریاست ہی وصول کرتی ہے۔ جزیہ ان افراد سے لیا جاتا ہے، جو اسلامی ریاست میں، ریاست کو اپنا محافظ تصور کرتے ہوئے قیام پذیر ہوتے ہیں۔ اب اگر ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہو گا تو تب ریاست کس حیثیت سے جزیہ وصول کرے گی؟ اسلام کے نظام اجتماعی میں ایک لمبی فہرست ایسی ہے جن کی انجام دہی کا ذمہ دار نظم اجتماعی ہے۔ مثال کے طور پر زکوۃ کی وصولی کا اور پھر اسکی تقسیم کا معاملہ۔ حدود للہ کے نفاذ کا معاملہ۔ سادہ لفظوں میں مقننہ، عدلیہ اور فوج ان تمام کی قیود و حدود، ان کی جواب دہی اور اختیارات کو اسلام اصولوں کی صورت میں واضح کرتا ہے۔ کیا ریاست اسلام کو اپنا نظریہ تسلیم کیے بغیر، ان اصولوں کی پابندی کرنے کی پابند ہو گی؟ یا وہ ان رہنماء اصولوں کی موجودگی میں کسی اور رہنمائی کو اختیار کر سکنے کی مجاز ہو گی؟
صاحب کالم اپنی تحریر میں ایک جگہ لکھتے ہیں "مسلمانوں کی  دوعالمی حکومتیں قائم رہیں" زیادہ سے زیادہ اس سے جو بات اخذ کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں، اسلامی حکومتوں کی ایسی کیا ہیئت ہو جو اسلام کے ابتدائی تیس سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک قائم رہنے والی خلافت کے جیسی ہو؟ دوسرے لفظوں میں اسلامی ریاست کے بنیادی مقاصد کی تعبیر کرنے والی حکومتیں قائم ہو سکیں۔۔۔۔ اس پر بات کی بھی جا سکتی ہے اور کئی خدوخال بیان کیے جاسکتے ہیں۔
 آگے چل کے لکھتے ہیں۔۔۔۔"اسلام میں قومیت کی بنیاد اسلام نہیں ہے" اس پر مفکر اسلام مولانامودودی نے اپنی کتاب "مسئلہ قومیت" میں بہت وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ قاری اس کتاب کو پڑھ لیں۔ حدیث میں بیان ہوا ہے کہ " مسلمان ایک جسم واحد کی مانند ہیں۔۔۔۔" کیا عقل اس بات کو مانے گی کہ افریقہ میں بسنے والے افراد سے برصغیر میں رہنے والے افراد کا تعلق ہو؟ [جبکہ دونوں کا علاقائی، ثقافتی اور روایتی کوئی جوڑ نہیں بنتا]۔۔۔اب ایسا تعلق یا تو کسی سیاسی نظریہ کی وجہ سے یا پھر معاشی ضرورت کی بنا پر ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام جس قومیت کو تشکیل دیتا ہے اسکی بنیاد عقیدہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سوسائٹی اور حکومتوں کی اصلاح کا کام حکمت کے ساتھ سرانجام دیں۔ جدید نظریات کا مطالعہ اور پیش آمد حالات کے لیے واضح حکمت عملی تیار کریں۔ آج کی نوجوان نسل اسلام کو صحیح روح کے ساتھ سمجھنا چاہتی ہے۔ ان خوشگوار لمحات کو انجوائے کرنا چاہتی ہے، جس کا سنہری تذکرہ اسلامی تاریخ میں ملتا ہے۔ آج اگر یوتھ کی رہنمائی نا کی گئی تو بعید نہیں امت مسلمہ کا یہ اثاثہ ایسے ہاتھ لگ جائے، جو مسلمانوں میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔   
Muhammad Asim
Islamabad

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

کربلا، فلس ط ین، کیسے ممکن ہوا ؟

 اب سمجھ آتی ہے کربلا کا سانحہ کیسے ہوا ہو گا۔  لخت جگر، نواسہ رسول، کیسے شہید کردیے گے ہوں گے  اور  باقی مسلمان  کیوں کر خاموش رہے ہوں گے۔  تب میڈیا نہیں تھا،  اور  کمیونیکیشن سست رفتار تھی۔  9 ارب کی دنیا میں  آج دو ارب  خود کو  مسلمان کہتے ہیں، جبکہ  بیس لاکھ کربلا میں  تنے تنہا  اپنا سب کچھ لٹا رہے ہیں اور باقی اربوں ذندہ لاشیں،  واللہ  یہ بیس لاکھ ہی  دراصل ماننے والے ہیں اور باقی سب  وہ  "جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود"  باقی سب کو  چھوڑیں ہم اپنی بات کرتے ہیں۔  کیا ہم اساتذہ  رب کے حضور ان بچوں اور معصوموں کے  قتل نا حق کا  جواب دیں پائیں گے؟  جب رب العالمین،  پوچھیں گے اے فلاں  میرے ماننے والے  جنہیں میں حرم کعبہ سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا ان کے قتل پر  تمہاری خاموشی  اور زباں بندی  کیوں تھی؟  کیا تم  اپنے طلبہ کو  اس کربلا کا شعور تک دینے سے قاصر تھے ؟  تب  ہم میں سے کون ہے جو بار گاہ رب العزت ...

وقت کا تکونی تصور (01)

وقت کا تکونی تصور (01) دو ہزار پندرہ کا آغاز ہو چکا۔ پہلے تین ماہ گزر چکے۔ باقی کے بیت جانے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔  آپ بلکہ ہم سبھی نے سال گزشتہ  بہت سے کاموں کو کرنے کی خواہیش کی اور کوشش بھی کی ، لیکن نہیں کرپائے۔  جبکہ  دوسری طرف  ایک طویل فہرست بحس و خوبی سرانجام دیے گے کاموں کی بھی ہے  ۔ اس سب کچھ کے باوجود اگر ہم اپنی کیفیت کا جائزہ لیں اورآس پاس کےحالات کو دیکھیں  توکسی بہتری کی رمق دیکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ حالات زیادہ خراب معلوم پڑتے ہیں۔ آخر یہ حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟  غلطی کہاں ہو رہی ہے؟  کیا معاملہ غلطی کا ہے یا پھر سمجھ اور فہم کا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وقت بھی ہماری طرح دوست بناتا ہے۔ لیکن وقت کے دوست  بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وقت بہت کم  لوگوں کی قدر کرتا ہے۔  آپ بخوبی جانتے ہیں کہ دوست ہمیشہ ، دوست کا شکر گزار رہتا ہے۔ مشکل حالات میں دوست ہی دوست کے کام آتا ہے۔ اب وہ تمام لوگ جو وقت کی کمی اور بے رخی کا  رونا روتے ہیں۔ وہ بھلا وقت کے دوست کیونکر ہوسکتے ہیں۔ کتنی دلچسپ بات ہے...