انسانی جذبات اور انسانی حقوق----تضاد کیوں؟
کیفے پر معمول کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد، شکم سیر ہونے کے
لیے موجود تھی۔ چند دن پہلے ایک اردو کے معروف کالم نگار نے لکھا"اب وہ رونق
اور شوق ختم ہوا جاتا ہے، جسے کہوا خانے اور چائے خانے پےماضی قریب میں دیکھنے کا موقع
ملتا تھا۔ لوگ مہذب انداز سے بات کرتے اور سنتے تھے۔ اور یہ ذوق عام لوگوں کوبھی
ان سستے کہوا خانوں پر کھینچ لاتا تھا" تعلیمی اداروں میں موجود ڈھابے اور
کیفے آج بھی کسی نا کسی شکل میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشرے
میں موجود خیر کی ایک چھلک یہ بھی ہے۔
ہماری میز پر جیسے ہی کرسیاں خالی ہوئیں۔ قریب ہی منتظر لڑکے فوری آ کر ان خالی کرسیوں پر براجمان
ہو گے۔ ہم بھی تین دوست پہلے سے بیٹھے تھے۔ ہمارے بیچ تعلیم اور معاشرتی رویوں کی
تربیت پر تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ آنے والے لڑکے بھی کسی باہمی دلچسپی کے موضوع پر
بات چیت کر رہے تھے۔ "کیا آپ ہماری رہنمائی کریں گے" ایک لڑکے نے
پوچھا۔۔۔ ہم میں سے ایک نے جوابا'' کہا "کیوں نہیں۔ ضرور، ہمیں خوشی ہو
گی" گفتگو کا آغاز ہو چکا تھا۔ موضوع تھا ہم انتہا پسندی کے کیوں کر خوگر
ہوتے جا رہے ہیں۔ اصل اسباب کیا ہیں اور صحیح حل کیا ہو سکتا ہے۔ دوران گفتگو کافی
دیر سے خاموش ایک نوجوان نے ایسا سوال کر
دیا کہ سبھی حیران رہ گے۔ کیا ہمارے ملکی قوانین بھی اس مسلئہ کا سبب
بن رہے؟" ہمارا فطری سوال تھا۔ "آپ کوئی مثال دے دیں تو بات واضع
ہو جائے گی" "توہیں رسالت کا قانون" اسکا جواب بڑا مختصر تھا۔
سبھی ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ اب کیا کہا
جائے۔ بات تھی بھی بڑی نازک اور حساس۔ میرا ہمیشہ سےیہ خیال رہا ہے کہ دوران گفتگو
دوسرے کی عزت اور وقار کو مجروح کسی صورت بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔ آج اسی اصول کا
سہارا لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں نے پوچھا۔ "آپ کے ابوکیا کرتے ہیں؟"
سبھی مجھے دیکھنے لگے جیسے کہے رہے ہوں۔ یہ کون سی بات پوچھ رہے ہیں۔ جو بات ہو
رہی ہے اسکا جواب دیں۔ میں نے پھر اصرار کیا کہہ آپ بتا دیں۔ ایک یونیورسٹی میں
پڑتے ہیں۔ اب اتنی جان کاری تو ہونا بنتی ہے۔۔۔ اس لڑکے نے مناسب انداز سے جواب
دیا۔ جی میرے ابو اپنے قبیلہ کے بڑے ہیں۔ جسے آپ سردار بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کا
سارا دن عوامی مسائل کو حل کرتے گزر جاتا ہے۔ زمینوں کی دیکھ بھال بھی وہی کرتے
ہیں۔
میں نے اسکا شکریہ ادا کیا۔ اور ایک نیا سوال بھی کردیا۔
"اگر آپ کو اس وقت کسی جاننے والے کی کال آئے یا آپ خود اپنے گھر موجود ہوں
اور آپ کو پتا چلے کہ کسی کمی نے آپ کے ابو کو گالیاں دی ہیں تو آپ کا کیا رویہ ہو
گا؟؟؟ صورتحال انتہائی دلچسپ ہو چکی تھی۔ اصل موضوع بظاہر اوجھل ہو چکا تھا۔
غصے سےاسکا چہرا سرخ ہو رہا تھا۔ آپ میرے خاندان کو بیچ میں
کیوں لا رہے ہیں۔ بات کو بدلیں نا۔ میرے دوبارا پوچھنے پر اسکا جوب تھا۔ "اول
تو ایسا ہونا ممکن نہیں اور اگر اللہ نہ کرے، ہو گا تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ علاقے
میں ہماری عزت اورایک مقام ہے"۔ سبھی کے جذبات ایک جیسے تھے۔ کیوں نہ ہوتے،
کون ہو گا جو اپنے والدین کی عزت کو تارتار ہوتا دیکھے اور کوئی رد عمل نا
دیکھائے۔
آپ نے مسلہ حل کر دیا۔ سبھی نے پوچھا۔ کون سا مسلئہ؟ میں نے
کہا وہی جس پر گفتگوہورہی تھی۔ "توہیں رسالت کا قانون"۔ آپ سبھی لوگ ایک
لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر ہم اپنے ایک قریبی رشتے کی توہین برداشت نہیں کر سکتے تو
ایک ایسی شخصیت کی شان میں گستاخی جس پر ایمان رکھنے والے اربوں کی تعداد میں ہیں،
انکی عزت و ناموس کو کوئی اللہ نہ کرے مجروع کرنے کی جسارت کرے تو کیا جذبات ہوں
گے؟؟؟
سبھی کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ نا صرف مطمئن ہیں بلکہ خوش
بھی کہ ایسا قانوں لازمی ہونا چاہیے۔ اسی لڑکے نے کہا۔ یہ قانوں تو حقیقتا"
ضروری ہے۔ بلکہ باقی پیغمبروں کی بھی عزت کو اس قانون میں تحفظ دینا چاہیے۔ میں نے
تفصیل کے ساتھ قانون کے مندرجات کو بیان
کر دیا اور ساتھ ہی واضع کر دیا کہ تمام پیغمبروں پر جہاں ایمان لانا اسلام کا حصہ
ہے وہیں انکی عزت کرنا بھی لازمی ہے۔ اور قانون اسکے تحفظ کو لازمی قرار دیتا ہے۔
سزاء بھی۔
دنیا کی کل آبادی 7 ارب سے زاہد ہے۔ اس آبادی کا بیشتر حصہ
کسی نا کسی مذہب اور اس سے وابستہ شخصیت کو مانتا اور احترام دیتا ہے۔ بہت ہی کم یعنی
آٹے میں نمک کے برار بھی ایسے افراد کی تعداد نہیں ہو گی جو مذہب کو، خدا کو نا
مانتے ہوں گے۔ یہودی مذہب اپنی تعداد کے لحاظ سے بڑے مذاہب میں آخری نمبر پر آتا
ہے۔ ہولوکاسٹ ایک سیاسی مسلئہ ہے۔ اس کے باوجود دنیا کے چند جدید اور بڑے ممالک
میں ہولوکاسٹ پر بات کرنا قانون جرم ہے اور قابل سزاء بھی۔
اقوام متحدہ بھی دوسروں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار فورم
ہے۔ کسی خاص گروہ کو کسی بھی شکل میں کوئی ممتاز مقام حاصل نہیں۔ کیا اقوام متحدہ
کا ادارہ امن وامان اور انسانی جذبات کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، تو
مسلسل انتہائی کم تعداد میں موجود لوگوں کی طرف سے ایسی غیر مہذب حرکت پر خاموش
کیوں ہے؟؟ پھر یہ مسلئہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد کا ہے جو کسی
نا کسی مذہب کا پیرو کار ہے۔
آج دنیا کے بیشتر مسائل کی وجہ انسانی جذبات کی ناقدری ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ ہر اس فرد کو جو ذرہ بھی
عقل سلیم کا مالک ہے، اس بات پر آمادہ اور تیار کریں کہ
"دنیا کے کسی
بھی مذہب اورا سکی علامت کو یا شخصیت کو
قابل احترام تصور کریں گے۔ توہین آمیز اور
نا قابل برداشت رویے قابل سزاء ہوں گے"
محمدعاصم-اسلام آباد



dosro ki jeet pr gam or gussa ka izhar krna,kamyabi is se khe brh kr he..khd ko is qabil bnao ke tmhari jeet pr wo har man jy.quk jeet unki zati mlkiat ni he.ye hr mhnt krne wale ko ml skti he.
جواب دیںحذف کریںPersonal Jeet k liye ye kehna drost hy. Insaniyat ki Jeet k liye Sari dunya k Saleem-Fitrat logon ka koshash kerna hi Asal Jeet hy.....
حذف کریںsari dunya (society) "afraad" se he ml kr bnti he..
جواب دیںحذف کریںafrad ke hatho me he aqwam ki tqdeer
hr frd he millat ke muqddar ka sitara