سکیورٹی الرٹ
جب کسی علاقہ پر
وہاں کے بسنے والوں کی رضامندی کے برخلاف کوئی جابر قابض ہو جائے تو ایسا خطہ
مقبوضہ علاقہ کہلاتا ہے۔ جب آپ کے گھر سے بازار اور دفتر تک کی مختلف سڑکوں کو سیکیورٹی کے نام پر لاتعداد ناکو ں
میں جکڑ دیا جائےتب اسے سیکیورٹی الرٹ کہتے ہیں۔اور اگر کہیں دھماکہ ہو جائے تو
ایسی صورتحال کو کیا کہا جائے گا؟
ویسے تو سرا شہر ہی قابل دید ہے۔ لیکن اس جگہ کا حسن اپنی
مثال آپ ہے۔ جی میرا اشارا، اسلام آباد کے پر فضاء مقام مارگلہ ہلزکی طرف ہے۔
اسلام آباد چڑیا گھر کے سامنے سے ایک بل
کھاتی سڑک سرسبز وشاداب پہاڈی پر آپ کو لے جاتی ہے۔ یہاں پر پہلا سٹاپ اسلام آباد
ہل ویو کا ہے۔ یہاں سے سارا شہرے ایک پیلاے کی مانند آپ کی ناک کے نیچے محسوس ہوتا
ہے۔ یہاں سے کچھ مزید ڈرائیو کے بعد آپ ٹاپ پر پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں مارگلہ ہل کی
عمودی طرف خوبصورت ریسٹورینٹ منال آپ کا استقبال کرتا ہے۔ مجھے چند سال پہلے اس
جگہ کے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ واپس جاتے وقت میرا پختہ ارادہ بن چکا تھا کہ سال
کےالوداعی سورج کی کرنوں کو آئیندہ برس اسی مقام سے دیکھوں گا۔ پھر یہ میرا معمول
بن گیا۔
آج 2014کے آخری سورج کے ڈبنے کا "دلکش منظر"مجھے اداس لگ رہا تھا۔اچانک
اسکی آواز نے مجھے چونکہ دیا تھا۔ "وہ سامنے دیکھو۔۔۔ دیکھو کوئی رو رہا ہے؟
کیا تمہیں سسکیاں سنائیں دے رہی ہیں؟ ابھی میں پوری طرح معاملے کو سمجھ ہی نا پایا
تھا کہ وہ میرا ہاتھ پکڑے آواز کی جانب چل دیا۔ اماں آپ رو کیوں رہی ہیں؟ سڑک کے
کنارے پتھر پے بیٹھی عمررسیدہ خاتون کو دیکھتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکلا جملہ
مجھے بھی حیران کر گیا۔بات شروع ہوئی تو ہمارا اندازا غلط نکلا۔ شکل سےبڑی عمر کی لگنے والی خاتون حقیقتا 45 برس
کی تھی۔صفیہ خان [فرضی نام] اسلام آباد کے ہی ایک سکیڑ میں ہنسی خوشی زندگی بسر کر
رہی تھی کہ ایک دن ساری کہانی بدل گئی۔ آبپارہ چوک کے سانحے میں اسکا شوہر جان بحق
ہوا تھا۔ اور اب اسکا کزن پشاور کینٹ کے آرمی پبلک سکول میں حالیہ سانحے میں اس
جہان فافی سے گزر گیا تھا۔ "میری تو ساری دنیا ہی اجڑ گئی ہے" روتے ہوئے
اس کی زبان صرف اتنا ہی کہے پائی۔
میں آج بھی سوچتا ہو تو پریشان ہونے لگتا ہوں۔ نا جانے کتنے
خاندان اب تک اس جنگ میں اپنے پیاروں کی قرنانیاں دے چکے ہیں۔ مگر اس خون کی دیوی
کو ناجانے کتنے اور جوانوں کا خون چائیے۔ کتنے لخت جگر اس کی اس خونی پیاس کو بجھانے
کو کافی ہوں گے۔۔۔ بہادر ہیں وہ جو اس
بھیانک ظلم و بربریت کے ، پاکستان اور سلامتی پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
لاکھوں لوگ اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہو کر دفاع پاکستان کی زندہ مثال بن گے ہیں۔
آپ خود کو ایک لمحے کے لیے بے گھر سمجھیں اور تصور کریں کہ آپ کے بچے آپ سے سکول
جانے کا تقاضہ کریں، آرم دہ زندگی مانگیں، گھر اور کھانا مانگے۔۔۔ آپ اگر نا دینے
کی کیفیت میں ہوں گے، تب آپ پر کیا بیتے گی؟؟ یہ سب سوچنا ہی کتنا بھیانک ہے۔ اللہ
امان
آج یہی حال سارے
ملک کا بنتا جا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ورکنگ سرحد پر روزانہ فائرنگ کی
اطلاعات ہیں۔ گورننس کی تو مت وج گائی ہے۔ ایسے میں کیا کیا جائے کہ حالات معمول
پر آجائیں اور ہر پاکستانی سکھ کا سانس لے سکے۔ ؟ 31 دسمبر 2014 امریکہ اور اس کی
اتحادی افواج افغانستان سے نکل جانے کا اعلان کر چکی تھی۔ لیکن حالات امریکہ کو اس
بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ وہ یوں نکل جائے کہ افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی
کا شکار ہو جائے۔ بھارت بھی پوری طرح افغانستان میں اپنا اسررسوخ پھیلا رہا ہے۔
صنعت اور تعلیم پر اسکی سرمایہ کاری سب کو معلوم ہے۔ اور بیسیوں سفارتی کونسلیٹ کس
مقصد کے لیے کھلے گے ہیں؟ کیا کوئی اسکا جواب دے گا؟ ایران کی بھی اپنی سرمایہ
کاری ہے۔ اس سلسلہ میں رینڈ کارپوریشن کی ریسرچ کا مطالعہ مزید صورتحال کو واضع کر
دیتا ہے۔ لیکن سوال تو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مستقبل کا ہے۔ کون سوچے گا ؟
فوجی عدالتیں ؟ سول عدالتیں خصوصی اختیارات کے ساتھ یہ کام
بآسانی جب یہ کام کر سکتی ہیں تو بھر فوجی عدالتیں کس لیے؟ آخر ہمارے ادارے کب
قابلیت کی ایسی سطح پر آجائیں گے کہ اپنے دائرے میں رہ کر اپنے اپنے کاموں کو بحسن
و خوبی کر لیا کریں گے؟ کیا ہمارے ارباب اقتدار نہیں جانتے تھے کہ ایک نا ایک دن امریکہ
بہادر ہمیں ، اس آگ میں جو امریکہ نے لگائی ہے، تنہا چھوڑ کےبھاگ جائے گا۔ تب ان
حالات میں پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟ کیسے کرنا ہو گا؟ اس کی تیاری کیوں نہیں کی
گئی؟ اور اب جب حالات کے مقابلے کا وقت آیا ہے تو خوف و حراس کی ایک فضاء کھڑی کر
دی گئی ہے کو قوم کے مارال کو زمین بوس کر دینے کے مترادف ہے۔ آخر یہ سب کیوں؟
پاکستان کے خفیہ ادارے آخر کر کیا رہے ہیں؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ اہل اقتدار نے
معصوم عوام کو بیچ ڈالا ہو ویسے ہی جیسے ڈوگر نے کشمیریوں کو بھارت کے ہاتھ فرخت
کر دیا تھا؟
آپ کو اتنی حیرت کیوںہورہی ہے؟ کیا آپ امریکہ سے ابھی ابھی
واپس پہنچے ہیں اور اپنی آزاد نقل و حرکت کے چھین جانے کا خوف کھائے بیٹھے ہیں؟
کیوں وہاں کیا ایسا نہیں ہوتا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو امریکہ کی اپنی جنگ ہے
پھر وہاں کیوں ایسا نہیں ہو رہا؟
محمد عاصم-اسلام آباد

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں