داعی دین خدا۔۔۔۔۔۔۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ میں یونیورسٹی ہاسٹل ، اپنے ایک قریبی
دوست کے روم میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اچانک ایک ساتھی نے مجھے جگاتے ہوئے کہا
"قاضی صاھب کے بارے خبر آئی ہے، آپ کسی سے رابطہ کر کے کنفر م کر دیں"
ایک دم نیند کافور ہوگئی۔ فورا" آصف لقمان بھائی کا نمبر ڈائل کیا۔ لاکھ
خواہیش کے باوجود خبر سچی نکلی۔ اے اللہ میرے مربی ومزکی کو اپنی اعلی جنت، جنت
الفردوس میں مقام بلند عطا فرما۔ آمین
باقی رات قاضی صاحب سے وابستہ لمحات کویاد کرتے گزر گئی۔
صبح پشاور کے لیے روانگی ہوئی اور جنازہ میں شرکت کی۔ ہزاروں لوگ شریک تھے۔ اندورن ملک اور
بیرون ممالک لاکھوں لوگوں نے قاضی صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔
قاضی صاحب سے وابستہ یادیں اتنی ذیادہ ہیں کہ لکھنے بیٹھ
جاوءن تو ایک وقت درکار ہوگا۔ پھر انکی شخصیت ایک عام پاکستانی سے لیکر عالم عرب و
عجم تک اپنے مرید رکھتی ہے۔ مینار پاکستان کے اجتماعات عام،کشمیر کی آزادی اور ان
کے حقوق کی جدوجہد اور 5 فروری یوم کشمیر کے آغاز، واجپائی کی آمد پر احتجاج، جہاد
افغانستان سے جہاد کشمیر، مسلہ فلسطین سے مسلہ بوسینیا، اتحاد امت کی کاوشوں سے لیکر سلامتی
پاکستان تک، لازوال اور انگنت لمحات ہیں، جدوجہد کے سنگ ہائے میل ہیں، قربانیاں
ہیں، مسکراہٹیں اور شادمانیاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بابا قاضی نہیں ہیں لیکن یادیں زندہ
ہیں۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
علامہ اقبال کے اشعار کی روانی، پاکستان کے اندرونی اور
عالمی حالات کی تصویر کشی کرتے قاضی صاحب اتنے پیارے لگتے تھے کہ دیر تک آدمی انکی
گفتگو کے سحر میں گرفتار رہتا۔
اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہے کا تصور قاضی صاحب کا
ہی تھا۔ آج جماعت اسلامی اسی سلوگن کو عوامی آواز بنانے کی مہم جوئی میں مصروف نظر
آتی ہے۔ اور کامیابی؟ اس کا انحصار کلیتا" محنت اور مقصد سے سچی لگن پر
ہے۔
محمد عاصم-اسلام آباد


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں