نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیفے کی باتیں


کیفے کی باتیں

ایک پراٹھا اور۔۔۔۔ ارے ہاف فرائی لانا۔۔۔۔۔۔ابے یہ چائے کس کی لائے ہو ۔ ۔۔۔۔۔
میں کیفے میں داخل ہوچکا تھا۔ مکھیوں کی بھن بھناہٹ کی طرح مختلف آوازیں میری سماعت سے جھگڑ رہی تھیں ایسے جیسے ہر ایک اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہو ۔ یہ قائدآعظم یونیورسٹی کا مین کیفے تھا۔ ویسے تو سوشل ہٹ اور کیمسٹری ہٹ کی شان اپنی انفرادیت لیے الگ ہی دنیا لگتی ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی کیفے کی۔ یہاں آپ کو کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔ یہاں سبھی ایک سے دیکھائی دیتے ہیں۔ اپنے اپنے مشاغل میں گم۔ انہیں آوازوں کے شور میں مجھے انتہائی مستعد اور معصوم سا ویٹر دیکھائی دیا۔   سبھی اسکو شہزادے کے نام سے پکار رہے تھے۔ شاہد یہ اسکا اصل نام یا بھر فرضی نام تھا ۔ اب میں اس انتظار میں تھا کہ جیسے ہی شہزادہ میرے قریب سے گزرے تو میں اسے اپنا آڈر دے دوں۔ شکل اور چال ٹھال سے وہ کسی شہزادے سے کم نا تھا۔ ایسے میں مجھے ایک عجیب سا خیال آیا اور میں کیفے سے آٹھ کے باہر چلاگیا۔ اب میں اس انتظار میں تھاکہ جیسے ہی شہزادے کی شفٹ ختم ہو گی تو اس سے ٹھہر ساری باتِیں کروں گا۔
انتظار ایک ایسی بلا ہے کہ اگر محبت کے لیے بھی کرنا پڑے تو کسی طرح سولی سے کم آذیت ناک نہیں لگتی۔ میں شہزادے کی ملاقات کے اشتیاق میں ۔۔۔۔۔۔ شام تک رہا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اس وقت کو کیسے گزار پایا۔ اف۔ اللہ اللہ کر کے انتظارکا اذیت ناک مرحلہ ختم ہوا۔ شہزادہ اپنی سی ادا کے ساتھ کیفے سے نکلا۔ اور ایک سمت چل دیا۔ میں بھی ہولے سے اسکی جانب چل دیا۔
میرا نام ۔۔۔۔۔۔ میں نے بات کا آغاز کیا۔ کیا ہم کچھ دیر کہیں بیٹھ کے بات کر سکتے ہیں؟ میری بات سن کے وہ ایک لمحے کے لیے روکا۔ معصومیت سے بولا۔ صاحب کیا کچھ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے؟؟؟ نہیں بیٹا۔ آپ اتنے اچھے ہوں۔ ہم قریب بچھے بینچ پر بیٹھ چکے تھے۔ میں نے چپس کا پیکٹ اسکی طرف بڑھاتے ہوے پوچھا، بیٹا آپ کا نام کیا ہے اور کب سے کام کر رہے ہو؟؟ اس نے کہنا شروع کیا ۔جی شہزادے کے نام سے تو یہاں سبھی مجھے پکارتے ہیں ورنہ میرا اصل نام شہریار ہے۔ تقریبا" ۲ سال سے کام کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ ایک طویل داستان، جس نے آنکھوں میں نمی پیدا کر دی۔ دل تو چاہتا ہے کہ سب کچھ لکھ دوں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ اپنی کلاس میں ہمیشہ آگے رہنے والا بچہ کیونکر ننھی سی عمر میں ویٹر بنا۔ میں نے پوچھا۔ باقی بہن بھائیوں کو بھی کام کروانا چاہتے ہو؟؟ ایک دم مجھے دیکھا جیسے احتجاج کر رہا ہو کہ کتنے سنگ دل ہو تم کہ مجھ سے میری معصومیت چھین کر بھی تمنا رکھتے ہو کہ باقی بھی یہی کام کریں۔۔۔۔۔۔۔ صاحب وہ کیوں تعلیم ترک کریں گے، میں ہوں نا انکے لیے کمانے والا۔ وہ سبھی ایک دن اسی یونیورسٹی میں آئیں گے۔ اور میرے والدین اور میرے پیارے وطن کا نام روشن کریں گے۔ بے اختیار میری زبان سے اس کے پرعزم چہرے کو دیکھ کر  ان شاء اللہ نکلا۔
صبح سویرے آٹھ کے آنے والا شہریار اپنا معصوم سا سوال ہم سب کے لیے چھوڑ گیا۔ صاحب۱ کیا آپ بڑے لوگ ہم جیسے ویٹروں کے لیے بھی کوئی قانوں نہیں بنا سکتے؟؟؟ کیا ہم آپ کے جیسے انسان نہیں ہیں؟؟؟
حکومت سے گلا کروں یا سیاست دانوں سے؟؟ یا ان اداروں سے جو ان معصوم بچوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کر کے ۔۔۔ نا جانے کیا کرتے ہیں۔ بیس کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں ۱۰سے ۱۸ سال کی عمر کے بچوں کی تعداد تقریبا 20 فیصد بنتی ہے۔ لیکن ہمارے حکمران خواہ وہ صاحبے اقدادار ہوں یا شریک اقدادار ہوں سبھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ کل کی دنیا کن چیلنجز کے ساتھ موجود ہو گی، کیا ہمارا یہ مستقبل ان حالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیتوں سے مسلح ہوگا؟؟؟
کیفے کی زندگی میری آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھی ۔ جیسے کہے رہی ہو کہ کیا تم اور تمہارا سارا وطن میری طرح کی حالت سے دوچار نہیں ہے۔ اسی ماحول کی طرح۔ جہاں سبھی  بے فکری میں گم ہیں۔  ہر فرد اپنی خوشی کا سامان تلاش کرتا ہے اور اپنی منزل کی جانب چل پڑتا ہے۔ اور اپنے پیچھے کچرا پھینک جاتا ہے۔
میں گم سم کیفے کی باتوں کو سن رہا ہوں کیوں کے میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں۔ ایسے ہی جیسے میرے اس بلاگ کا کوئی ربط نہیں، معصوم شہزادے شہریار کے سوال کا کوئی جواب نہیں۔  اور اب خود کیفے کی باتوں کا۔   

Muhammad Asim
Islamabad

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

وقت کا تکونی تصور 02

وقت کا تکونی تصور 02 وقت جسے انگریزی زبان میں ٹائم لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس سے متعلق ماہرین علم طبیعات یعنی فزکس ، جن کے ہاں وقت ناپنے کا کم سے کم پیمانہ سیکنڈ یعنی لمحہ ہے، کہتے ہیں کہ "سیکنڈ اس عرصہ کو کہا جائے گا کہ جس میں سی ایس133 ایٹم اپنے 9192631770 ارتعاش مکمل کرلے"۔ دوسری جانب ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ  "مسلسل پیشرفت کا نام وقت ہے۔  جسے ماضی، حال اور مستقبل کے درجوںمیں تقسیم کیا جاتا ہے"۔ پہلی قدر: اگر آپ کائنات کے نظام کار پر غور کریں تو  آپ کو محسوس ہو گا   کہ اس گلیکسی کی ہر شے ایک خاص نظم و ضبط کی پابند ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظام شمسی کی تمام اشیاء ایک طے شدہ اوقات کار[سسٹم]  کی پابند ہیں۔ جیسے سورج اپنے ایک خاص وقت پر طلوع وغروب ہوتا ہے۔ انسان اپنی اس زندگی کے طے شدہ  ماہ  و  سال گزار کر دائمی حیات کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ تما م سیارے طے شدہ  رفتار کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں تاکہ اپنے وقت پر سفر کی مسافتوں کو طے کریں۔ وقت کی پہلی قدر، دراصل پابندی کا پیغام ہے۔ نظم و ضبط (discipline...

فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA- 246

 فیصلہ آپ کا۔۔۔ NA-  246 انتخابات معاشرے میں روداری، آزادانہ اظہار رائے اور باہمی میل جول کا باعث  بنتے ہیں ۔ اگر ایسا نا ہو تو کیا فائدہ پھر اس سب کچھ کا  ؟ بھائی لوگ ہر ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ اس پہچان میں اصول پسندی اور وعدہ کی پاسداری دو نمایاں خوبیاں ہیں۔ کیوں کہ سارے پیشہ کا دارومدار اسی اصول سے وابستہ ہے۔ مصطفی کمال اچھاہوتا تو کیوں اصول توڑتا ۔؟   البتہ وقت بدل جائے اور حالات کا تقاضہ ہو تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، ایسے میں مندرجہ بالا صفات کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی معانی ہوں بھی تو ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ان کو تو بس اپنے مقاصد کے حصول کی محنت کرنی ہے اب بھلا ہینگ کم لگے اور رنگ زیادہ، تو اس میں بھائی لوگ کس کھاتے میں مجرم ٹہرے؟ رات گے ایک سیاسی جماعت کے لیڈر پریس کانفرنس کر رہے تھے کہ ان کی پرامن ریلی پر بھائی لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ آپ دوسروں کی "جاگیر" میں بنا اجازت کے جائیں گے تو کیا وہ آپ کو پھول پیش کریں گے؟  اس سے پہلے ایک دوسری پارٹی کے لیڈر اپنی ناکام جلسی کو کامیاب قرار دیتے رہے اور ساتھ ...

سگنلز- شاہراہ زندگی کے سگنلز

شاہراہ زندگی پر کامیابی کے سگنلز Muhammad Asim Islamabad