ریلیف اور تعمیر نو
حکمت عملی کا بنیادی خاکہ
پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے مختلف قدرتی اور انسانی آفات کا شکار ہے۔ ہر آنے والے سال میں ایک نئی آفت مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے ستمبر2014ء کے سیلابی ریلوں کی آمد تک وطن عزیز کا کوئی نہ کوئی حصہ خطرناک آفات کاشکار نظر آتا ہے ۔ مسلسل ناگہانی حالات کے آنے اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ حالات سے نبرد آذما ہونے کا ایک خاطر خواہ تجربہ سرکاری ‘ غیر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو حاصل ہے لیکن بد قسمتی دیکھیں اہل پاکستان کی ‘ ہر ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے کم وبیش تمام ہی ادارے اپنے اندرکے معاملات اور ریلیف و تعمیر نوکی سرگرمیوں کو سر انجام دینے میں ہنگامی حالات سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ ایسے حالات شاہد پہلی بار دیکھنے اور سمجھنے کو مل رہے ہیں ۔ تب اس کیفیت کا ذمہ دار کون ہے ؟’ اس کا جواب شاہد سبھی سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے۔ لیکن جواب دینے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے ،اور نہ ہی کوئی ایک ادارہ، رول ماڈل بننے کی کوشش میں نظر آتا ہے۔
ہنگامی حالات میں فوری اور ضرورت کے مطابق امدادی کاموں کا آغاز ‘بیشک مشکل اور کئی پہلوؤں سے حساس ترین معاملہ ہے ۔ معاشرتی اقدارمیں تنوع‘ علاقائی صورت حال میں فرق ‘ حکومت وقت کی پالیسی و ترجیحات ، امدادی کاموں کو سر انجام دینے والی فلاحی تنظیموں کے اپنے اپنے طریقہ کار میں فرق اورامدادی کاموں کی انجام دہی کے لیے میسر ہیومن ریسورس کی قابلیت و تربیت سمیت کئی پہلو ،منظم و مربوط کام کے آغاز میں کسی نہ کسی حد تک ایک مشکل اور کٹھن ابتدائی دورانیہ ہوتا ہے ۔ یہ ابتدائی مرحلہ فطری طور پہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اب لمبے دورانیے کے لیے امدادی سرگرمیاں انہیں بے ربط اور ہنگامی نوعیت کی کیفیت سے دوچار ہی رہیں۔پھر حقیقت میں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ امدادی سرگرمیاں کیوں ہنگامی حالت میں رہتی ہیں؟ ان حالات کی وجہ کیا ہے؟ کیابہتر نتائج کے حصول کے لیے کوئی حکمت عملی بنانا ممکن نہیں ہے ؟ کیا دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں مسلسل آفات کا تسلسل رہتا ہے ،وہاں بھی ایسے ہی مسائل ہیں جن کا سامنا ہمپاکستان میں کرتے ہیں ؟ یقیناًجدید دنیا موئثر و مربوط حکمت عملی کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے ہنگامی حالات کا سامنا کرنے اور پیداشدہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے چاک و چوبند نظر اتی ہے ۔ اسکی بہترین مثال ہمارے سامنے جاپان کی صورت میں موجود ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا ہو گا ۔ان بنیادی اسباب کا ادراک کرنا ہو گا جو اس ہنگامی کیفیت کا سبب بنتے ہیں۔ ان وجوہات کو سمجھتے ہوے ایک ٹھوس اور قابل عمل لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ تاکہ آئیندہ اصل کام پر توجہ مرکوز کر کے غم ذدہ چہروں پر مسرت وشادمانی بکھیری جا سکے۔
اگر مختصراُ جائزہ لیا جائے تو مندرجہ ذیل بڑے بڑے مسائل امدادی سرگرمیوں میں نظر آتے ہیں کہ جن کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں ’’ ہنگامی حالات‘‘ میں ہی دبی رہتی ہیں اور کافی وقت کے بعد ’’ موثرامدادی سرگرمیاں ‘‘ بن پاتی ہیں ۔درجہ ذیل وہ بنیادی مسائل ہیں جن سے فل الفور چھٹکارا حاصل کرنا لازمی ہے۔
* پرانا اور بوسیدہ نظام جس میں حالات سے لڑنے کی صلاحیت سے مکمل اورتمام حوالوں سے نا بلند ہے۔مزید یہ ستم کہ نظام کا ہر ہرکارہ اپنی جیب بھرنے کے گول چکر میں مصروف عمل نظر آتا ہے۔
* ذمہ داریوں کے تعین اور احساس ذمہ داری کا فقدان دوسری بڑی بیماری ہے جو اب ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کس علاقے میں کون اور کیوں ذمہ دار ہوگا؟ کسی کو معلوم ہے بھی تو بھی انجان بن جاتا ہے۔ جبکہ بڑے عہدے والا اپنی شان میں گستاخی سمجھتا ہے کہ نچلے درجہ پر جا کر حالات کا جائزہ لے اور اصل حقیقت سے آگاہی کے بعد کام کو آگے بڑھائے ۔
* آفت زدہ علاقہ کون سا ہے؟ کب کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دیا جائے گا ؟ اس مقصد کے لیے بنیادی شماریات کیا ہوں گی ؟ ایسے تمام حوالوں سے نا آشنا سرکاری مشنری، جس کے نتیجے میں علاقوں کے تعین اور کس نوعیت کے کام کی ضرورت ہے کہ جیسی بنیادی اور ابتدائی معلومات کا فقدان رہتا ہے ۔
* سیاسی اور علاقائی وابستگی بھی کوئی کم رکاوٹی بئرئیر نہیں ہے۔ خاص طور پر منتخب نمائندوں کا رویہ اور سرکاری فنڈز کی فراہمی ، کہ کس علاقہ میں کتنا فنڈ لازمی ضرورت ہے ، کے وقت اس نوعیت کے مسائل کا سامنا ملتا ہے۔
* کون ضرورت مند ہے اور کون ضرورت مند نہیں ہے۔ اس حوالے سے انفرادی معیارات جس کی وجہ سے حقیقی ضرورت مند محروم رہ جاتا ہے ۔
* بے جا اور بے پناہ پروٹوکول کا غیر ضروری جال ‘ جس کے نتیجے میں وسائل کی بربادی اور تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
* امدادی اداروں کی رہنمائی اورکس علاقے میں کون کام کرے گا،کے تعین جیسے بنیادی امور کی انجام دہی کا کوئی ادارہ اور موثر نظام موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے کسی ایک علاقے میں غیر ضروری امداد بکثرت مہیا ہو جاتی ہے ۔ یو اس کی وجہ سے وقت اور وسائل کا ضیاء ہوتاہے اور کئی علاقے ابتدائی امداد سے محروم رہتے ہیں۔
ان انگنت مسائل میں کام کی حکمت عملی کیسے بنائی جائے ؟ بڑا بنیادی سوال ہے ۔ یہی بنیادی سوال تمام سٹیک ہولڈرز کی فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔ہمکوشش کریں گے کہ درجہ زیل سطور میں چند بنیادی نکات کو مختصراُ لکھنے کی مقدور بھر کاوش کریں تاکہ ہم سب اپنے قدم آگے کی جانب بڑھا سکیں۔ہمیں امید ہے کہ تمام ادارے موجودہ حالات اورپیش آمدہ حالات کے لیے کسی بڑی حکمت عملی کو ضرور واضح کر یں گے تا کہ مزید ہنگامی حالات کے شکار ہونے سے بچا جاسکے۔
* ڈسٹرکٹ کی سطح پر شماریات کے ایسے شعبہ کا قیام فوری عمل میں لایا جائے جو آفت زدہ علاقو ں کی مکمل معلومات جمع کیا کرے ۔ ایسی ابتدائی اسٹڈیز کروائی جائیں جس کی رہنمائی میں حالات کی نوعیت اور کام کی ضرورت کا واضح تعین کرنا آسان ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف جامعات اور ان کے ذیلی کیمپسیس کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یوں پہلے سے میسر وسائل اور سسٹم کئی اضافی اخراجات کیے بغیر معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔ تعلیمی ادارے علم و تحقیق سے وابستہ ہوتے ہیں ۔ ان پر کسی بھی نوعیت کی سیاسی و گروہی وابستگی کا تصور محال سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کی معلومات اور ہدایات کی ابتدائی ڈرافٹنگ تمام اداروں کے لیے قابل قبول ہوگی ۔
* کام میں نظم و ضبط انتہائی ضروری امر ہے۔ امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہمیشہ امداد باہمی سے ہوتا ہے جس گاؤں ‘ دیہات یا شہر میں کوئی آفت آتی ہے تو سب سے پہلے مقامی افراد رضا کار کے طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں ۔ پھر سرکاری ادارے متحرک ہوتے ہیں اور آخر میں غیر سرکاری ادارے امداد کو پہنچتے ہیں ۔ اس سارے عمل میں دو بنیادی نوعیت کی غلطیاں یا کمی ہمیشہ رہتی ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں کے مثبت نتائج بہت خطرے میں پر جاتے ہیں ۔
i ) آفت زہ علاقوں کا تعین ‘ نقصان کا اندازہ ‘ امدادی کام کی نوعیت کا تعین جیسے ابتدائی خاکے موجود نہیں ہوتے جس کی وجہ سے زیادہ آفت زدہ یا متائثر علاقے امداد سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ii)کس علاقے میں کون سا ادارہ کام کرے گا کس نوعیت کی امداد دی جا چکی ہے مزیدکس نوعیت کے امدادی کام کی ضرورت ہے اور حقیقت میں کتنا کام ہو رہا ہے۔اس جیسے امور کو منظم کرنے کا انتظام نہیں ہوتا ہے جس سے وسائل کا ضیاء اور کسی ایک ہی نوعیت کی پرابلم پر زیادہ توجہ مرکوز رہنے سے دیگر اہم اور فوری نوعیت کے مسائل حل طلب رہتے ہیں پہلے مسئلہ کا حل تو شماریات کے ادارے اور امداد باہمی کے رضا کار افراد سے بنیادی رہنمائی کے خاکے ڈرافٹ ہو جائیں گے۔ البتہ دوسرے مسئلے کے حل کے لیے ہنگامی حالات کی اطلاع کے ساتھ ہی کسی ایک ادارے کے سربراہ کو ذمہ دار بنادیا جائے ۔یہ ذمہ دار جامعات کے اساتذہ، کو سرکاری گزیٹڈ آفیسر یا سوشل ورکر بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح شماریات کی ٹیم اس ذمہ دار کے ساتھ مل کر نظم و نسق کی ذمہ داری بھی اداکرے گی، جس سے حالات کا مقابلہ بہتر انداز سے کرنا ممکن ہو جائیگااور آسان بھی ہو جائے گا ۔یوں ایک رابطہ کاری کا لوکل سطح پر یونٹ بن جائے گا۔ اگلے مرحلے پر امدادی امورمیں دلچسپی لینے والے تمام ادارے اس کوارڈینیشن یونٹ کے ساتھ رجسٹر رکر دیے جائیں گے جہاں سے مختلف علاقوں ‘ان علاقوں کے مسائل اور دیگر حوالوں سے مربوط و موثر معلومات کی موجودگی سے فوری محسوس کیے جانے والی سر گرمیوں کو نافذ کیا جا سکے گا ۔ یاد رہے کہ کوار ڈی نیشن کا ادارہ صرف رہنمائی اور علاقوں کے تعین کے فرائض سر انجام دینے کا پابند ہوگا جبکہ امدادی کام کرنے والے تمام فلاحی ادارے اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کرنے میں خود مختار ہوں گے۔ ملکی سالمیت اور علاقائی ثقافت و کلچر کا تحفظ تمام سٹیک ہولڈرز کی بنیادی ذمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی نوعیت کی کوتاہی ناقابل برداشت ہو گی۔
حالیہ سیلاب کی آمد کے بعد مندجہ ذیل مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
-1 گھروں کی تعمیر نو اور بنیادی ضرورت کے سامان کی فراہمی۔
-2 ذرائع آمدن جس میں فصل ، کاشتکار اور چھوٹے پیمانے کے دکاندار شامل ہیں کی بحالی کے لیے موثر حکمت عملی ۔ صحت اور وبائی امراض کے پھیلاؤ اور پھوٹنے کے اندیشوں کا فوری خاتمہ کرنا ضروری ہے۔
-3 تعلیمی اداروں کی بحالی کا کام جبکہ تعلیمی سرگرمیوں کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز کرنے کا کام ۔
-4 بجلی کی تنصیبات اور دیگر ضروری اداروں کی بحالی کے کام وغیرہ سرفہرست ہیں ۔
میری تمام ذمہ داران ‘ متعلقہ ادارے اور حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اداروں کی مضبوطی اور ان کے موثر کردار کے لیے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کے بنیادی کاموں کو اپنے آنے والے منصوبوں میں سرفہرست رکھیں تا کہ تعمیر وطن میں ہم سب کا مثبت کردار سامنے آ
سکے۔ جبکہ مندرجہ بالا گزارشات پر عملی اقدامات کریں تا کہ وسائل کا موثر اور بھر پور استعمال عملاُ ممکن ہو سکے ۔
اسلام آباد
masimiiui@gmail.com
0331-5152502
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں