بیتاب خواہش دل میں لیے۔۔۔ ہم روز ہی جیتے مرتے ہیں
تب میں پندرہ سال کا معصوم لڑکا تھا۔ روزانہ پیدل سکول آنا
جانا ۔ راستے میں اٹکیلیاں کرنا۔ صاف کپڑوں کا ایسا حشر کرنا کہ امی دیر تک انکی
صفائی میں کھوئی رہتی۔ تب سکول میں گھر سے ٹفن لے جانے کا رواج عام تھا۔ معمول یہ
تھا کہ سبھی دوست ملکر کھانا کھاتےتھے۔ یوں روزانا ہی انواح و اقسام کے کھانے ڈکارنے
کا سنہری موقع میسر رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک صاف دن کو جب میں گھر واپس پہنچا تو ایک
نئی سائیکل کو اپنےسامنےپایا۔ اس زمانے میں چائینہ سائیکل کا رواج اپنے عروج پر
تھا۔جس کے سامنے لائٹ لگی ہوتی تھی۔ میں لپک کے امی کے پاس پہنچا۔ امی امی یہ
سائیکل میری ہے نا؟ امی نے مسکرا کر کہا ، جی بیٹا آپ کی ہے۔ تمہارے بابا لائے
ہیں۔ میری خوشی دیدنی تھی۔ اس دن دوپہر کا
کھانا میں خود ابو کو انکی دکان پر دینے گیا تھا۔ ابو مجھے دیکھتے ہی پہچان گے تھےکہ
میں آج بہت خوش ہوں۔ میں نے اتنے زور سے ابو کا شکریا ادا کیا تھا کہ دکان پر
موجود سبھی لوگ ہنس دیے اور میں اپنا سا منہ بنا کر ایک طرف ہو گیا تھا۔ تب ابو نے
مجھے اپنے پاس بلا کر پیار کیا تھا۔ میں خوش ہو کر اپنی ندامت کو بھول گیا۔
وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ ابھی کل ہی کی تو بات لگتی ہے۔میرا
اپینڈکس کا آپریشن ہوا تھا۔ ابو بہت پریشان تھے۔ ساری رات وہ جاگتے رہے۔ اللہ نے
مجھے شفاء دی اور ابو کی خوشی انکے
مسکراتے چہرے سے نمایاں تھی۔ انکی یادیں انگنت ہیں۔ ہر لمحہ ہر ساعت ،میرے لیے
انمول ہیں۔ اور ہاں انکی آخری یاد گار تصویر بھی تو میں نے ہی بنائی تھی۔ اس دن
جمعہ تھا۔ فروری کے دن اور سردیوں کا موسم
تھا۔ وائٹ سوٹ میں وہ بلکل جوان لگ رہے تھے۔ مجھے اتنے پیارے لگے تھے۔ جبھی تو،اسرار
کر کے، ان کی تصویر بنوائی۔ تب کنگھا انکے ہاتھ میں تھا، جو تصویر کا حصہ بن گیا۔
آج بابا کو گزرے تین سال ہونے کو ہیں۔ لیکن وہ ایک پل کے
لیے بھی میری یادوں سے اوجھل نہیں ہوتے۔ جس دن میں اسلام آباد کے لیے روانا ہو رہا
تھا۔ بہت ہی پیار سے مجھے ملے۔ تب میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کے اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔
میرے اللہ میرے بابا کو اپنی اعلی جنتوں میں رکھنا۔ اپنا دیدار نصیب کرتے
رہنا۔ آمین
میرے ابو کہاں ہیں؟ کیا کوئی ہے جو مجھے انصاف دلا دے، مجھے
میرے بابا سے ملا دے؟ میں جب ان کتبوں کو
پڑتا ہوں تو ششدر رہ جاتا ہوں۔ میرے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ میرا جسم کانپنے لگتا
ہے۔ بے حس و منجمد خیالات کے ساتھ میں کتنے ہی لمحے اپنے ابو کی یاد میں گزار دیتا
ہوں۔ میں آج تین سال کے بعد بھی اپنے بابا کو بھلا نہیں پایا۔ تب انکی حالت کیا ہو
گی جن کے ابو گھر سے نکلے اور پھر لوٹ کے نہیں آئیے۔ وہ کہاں ہیں۔ کس حال میں ہیں۔
اس سے بڑھ کر ان کے پیاروں کی اور کیا حالت ہوگی، جو دن رات اس آس کے ساتھ، دروازے
پے ہونے والی ہر دستک کو سنتے ہیں کہ کیا معلوم یہ دستک انکے بابا کی ہو۔اب انکے
باباآئیے ہوں۔
دوسرے کا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا، جب تک کہ خود آدمی اسی
کیفیت سے گزرا نا ہو۔ دھماکے، ڈروں حملے،
خودکش بمبار اور کراس فائرنگ۔ یہ سب بھی تب تک ہی ٹھیک لگتے ہیں، جب ان میں کوئی
اپنا پیارا شہید نا ہوا ہو۔ 3000فوجی مارے جانے پر امریکا بہادر نے ،جاپان کے دو
خوبصورت شہروں کے ہنستے مسکراتے لوگوں کو موت کی اندہی وادی میں پہنچا دیا تھا۔ آج
کتنے پاکستانی، افغانی، عراقی، لبنانی، شامی، فلسطینی، کشمیری۔۔۔۔۔ اس ظالم سامراج
کی سامراجیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ لیکن کون ہے، جو آواز آٹھائے، اور دنیا کو بتائے
کے درحقیقت ہو کیا رہا ہے۔
تب دنیا کو جگانے کی کیا ضرورت ہے، جب ہم خود سو رہے ہیں۔ لاپتہ افراد امریکی تو نہیں ہیں۔
امریکہ بہادر تو چند سو افراد کے مارے جانے پر کئی ممالک کو اپنی توپوں کا نشانہ
بنا چکا ہے۔ لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟ کیا
ہم سبھی کو یوں ہی سوتے رہنا ہے؟؟؟ کیا ہماری غفلت کی کوئی آخری حد ہے؟؟؟ آخر یہ
سب کب تک، کب تک؟؟؟ پاکستانیو۱ جاگ جاو اس
سے پہلے کے یہ پیارا وطن ۔۔۔۔۔ اللہ نا کرے میرے موں میں خاک۔
جب ہم سب ،اپنے پیارےوطن کا اور اپنے وطن کے پیارےلوگوں کا ،درد
محسوس کرنے لگیں گے۔ جب کسی بلوچی کے مرنے پر، کسی پختون کے کٹنے پر، کسی پنجابی
کے کھائل ہونے پر، کسی سندھی کے تڑپنے پر اور کسی کشمیری کی چیخوپکار پر ہم ایک سی
کیفیت سے دوچار ہوں گے۔ ہمارا وجود ایک جیسا درد محسوس کرے گا۔ تب پاکستان بدلے
گا۔ تب تکمیل پاکستان ہو گی۔ تب قائد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔
آو دوستوں اس پاکستان کی پہلی اینٹ بنیں اور اپنے حصے کا
دیا روشن کریں۔
تانکے اندھیرے میرے
پیارے وطن سے دور ہو جائیں۔ اور ہم سب عزت کی زندگیاں بسر کریں۔ ایک خوشحال
پاکستان میں۔ جو ہم سب کا پاکستان ہو۔ جی ہاں ہم
سب کا۔
Muhammad Asim
Islamabad
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں