نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شہداء کے خون پر۔۔۔۔ سیاست۔۔۔۔آخرکب تک

امی میں بہادر ہوں۔۔۔۔۔۔

امی میں بہادر ہوں۔۔۔۔۔۔ سکول جانے کی خواہش ہمیشہ سے اس کے دل میں معجزن تھی۔ صاف ستھرے یونیفارم ، بالوں میں کنگھی اورچمکتے جوتوں کے ساتھ وہ آج بھی سکول گیا تھا۔یہ سکول تک کا سفرکس کو معلوم تھا کہ  اسکا آخری سفر ثابت ہوگا۔ وہ جنت کے ابدی سفر پر روانا ہو گیا۔ جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کے نہیں آیا۔  لیکن ماں کی آنکھیں اب بھی اسکے انتظار میں  منتظر ہیں۔ کیا معلوم وہ کہیں سے لوٹ آئے۔۔۔۔۔ کاش وہ لوٹ سکتا۔۔۔ کاش ،اے کاش۔۔ ماں کی ممتا کو کون سمجھائے۔جانے والے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔۔ لوٹ کے نہیں آتے۔ سن 2005 میں باجوڑ کے ایک مدرسہ پے ڈروں حملہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں85 معصوم بچے شہید ہوئےتھے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے کسی نا کسی شکل میں جاری ہے۔ کل 16 دسمبر 2014  کو دشمن نے اپنے بے رحم اور سفاک کردار کو 148 معصوم جانوں کے خون سے مزید داغدار کردیا ہے۔ 16 دسمبر پہلے بھی محب وطن پاکستانیوں کے لیے سیاہ دن تھا۔ سقوط ڈھا کہ کے زخم ابھی تازہ تھے ۔ ابھی تو کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان سے محبت کے جرم کی پاداش میں کئی بنگالیوں کو تختہ دار پے لٹکا دیا گیا ۔ کئی ایک اس جرم کی سزا جی...

بیتاب خواہش دل میں لیے۔۔۔ ہم روز ہی جیتے مرتے ہیں

بیتاب خواہش دل میں لیے۔۔۔ ہم روز ہی جیتے مرتے ہیں تب میں پندرہ سال کا معصوم لڑکا تھا۔ روزانہ پیدل سکول آنا جانا ۔ راستے میں اٹکیلیاں کرنا۔ صاف کپڑوں کا ایسا حشر کرنا کہ امی دیر تک انکی صفائی میں کھوئی رہتی۔ تب سکول میں گھر سے ٹفن لے جانے کا رواج عام تھا۔ معمول یہ تھا کہ سبھی دوست ملکر کھانا کھاتےتھے۔ یوں روزانا ہی انواح و اقسام کے کھانے ڈکارنے کا سنہری موقع میسر رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک صاف دن کو جب میں گھر واپس پہنچا تو ایک نئی سائیکل کو اپنےسامنےپایا۔ اس زمانے میں چائینہ سائیکل کا رواج اپنے عروج پر تھا۔جس کے سامنے لائٹ لگی ہوتی تھی۔ میں لپک کے امی کے پاس پہنچا۔ امی امی یہ سائیکل میری ہے نا؟ امی نے مسکرا کر کہا ، جی بیٹا آپ کی ہے۔ تمہارے بابا لائے ہیں۔  میری خوشی دیدنی تھی۔ اس دن دوپہر کا کھانا میں خود ابو کو انکی دکان پر دینے گیا تھا۔ ابو مجھے دیکھتے ہی پہچان گے تھےکہ میں آج بہت خوش ہوں۔ میں نے اتنے زور سے ابو کا شکریا ادا کیا تھا کہ دکان پر موجود سبھی لوگ ہنس دیے اور میں اپنا سا منہ بنا کر ایک طرف ہو گیا تھا۔ تب ابو نے مجھے اپنے پاس بلا کر پیار کیا تھا۔ میں خوش ہو کر اپنی ندامت...

کیفے کی باتیں

کیفے کی باتیں ایک پراٹھا اور۔۔۔۔ ارے ہاف فرائی لانا۔۔۔۔۔۔ابے یہ چائے کس کی لائے ہو ۔ ۔۔۔۔۔ میں کیفے میں داخل ہوچکا تھا۔ مکھیوں کی بھن بھناہٹ کی طرح مختلف آوازیں میری سماعت سے جھگڑ رہی تھیں ایسے جیسے ہر ایک اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہو ۔ یہ قائدآعظم یونیورسٹی کا مین کیفے تھا۔ ویسے تو سوشل ہٹ اور کیمسٹری ہٹ کی شان اپنی انفرادیت لیے الگ ہی دنیا لگتی ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی کیفے کی۔ یہاں آپ کو کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔ یہاں سبھی ایک سے دیکھائی دیتے ہیں۔ اپنے اپنے مشاغل میں گم۔ انہیں آوازوں کے شور میں مجھے انتہائی مستعد اور معصوم سا ویٹر دیکھائی دیا۔   سبھی اسکو شہزادے کے نام سے پکار رہے تھے۔ شاہد یہ اسکا اصل نام یا بھر فرضی نام تھا ۔ اب میں اس انتظار میں تھا کہ جیسے ہی شہزادہ میرے قریب سے گزرے تو میں اسے اپنا آڈر دے دوں۔ شکل اور چال ٹھال سے وہ کسی شہزادے سے کم نا تھا۔ ایسے میں مجھے ایک عجیب سا خیال آیا اور میں کیفے سے آٹھ کے باہر چلاگیا۔ اب میں اس انتظار میں تھاکہ جیسے ہی شہزادے کی شفٹ ختم ہو گی تو اس سے ٹھہر ساری باتِیں کروں گا۔ انتظار ایک ایسی بلا ہے کہ اگر محبت کے ل...

ریلیف اور تعمیر نو حکمت عملی کا بنیادی خاکہ

ریلیف اور تعمیر نو حکمت عملی کا بنیادی خاک ہ پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے مختلف قدرتی اور انسانی آفات کا شکار ہے۔ ہر آنے والے سال میں ایک نئی آفت مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے ستمبر2014ء کے سیلابی ریلوں کی آمد تک وطن عزیز کا کوئی نہ کوئی حصہ خطرناک آفات کاشکار نظر آتا ہے ۔ مسلسل ناگہانی حالات کے آنے اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ حالات سے نبرد آذما ہونے کا ایک خاطر خواہ تجربہ سرکاری ‘ غیر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو حاصل ہے لیکن بد قسمتی دیکھیں اہل پاکستان کی ‘ ہر ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے کم وبیش تمام ہی ادارے اپنے اندرکے معاملات اور ریلیف و تعمیر نوکی سرگرمیوں کو سر انجام دینے میں ہنگامی حالات سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ ایسے حالات شاہد پہلی بار دیکھنے اور سمجھنے کو مل رہے ہیں ۔ تب اس کیفیت کا ذمہ دار کون ہے ؟’ اس کا جواب شاہد سبھی سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے۔ لیکن جواب دینے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے ،اور نہ ہی کوئی ایک ادارہ، رول ماڈل بننے کی کوشش میں نظر آتا ہے۔ ہنگامی حالات میں فوری اور ضرورت کے مطابق امداد...