امی میں بہادر ہوں۔۔۔۔۔۔ سکول جانے کی خواہش ہمیشہ سے اس کے دل میں معجزن تھی۔ صاف ستھرے یونیفارم ، بالوں میں کنگھی اورچمکتے جوتوں کے ساتھ وہ آج بھی سکول گیا تھا۔یہ سکول تک کا سفرکس کو معلوم تھا کہ اسکا آخری سفر ثابت ہوگا۔ وہ جنت کے ابدی سفر پر روانا ہو گیا۔ جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کے نہیں آیا۔ لیکن ماں کی آنکھیں اب بھی اسکے انتظار میں منتظر ہیں۔ کیا معلوم وہ کہیں سے لوٹ آئے۔۔۔۔۔ کاش وہ لوٹ سکتا۔۔۔ کاش ،اے کاش۔۔ ماں کی ممتا کو کون سمجھائے۔جانے والے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔۔ لوٹ کے نہیں آتے۔ سن 2005 میں باجوڑ کے ایک مدرسہ پے ڈروں حملہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں85 معصوم بچے شہید ہوئےتھے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے کسی نا کسی شکل میں جاری ہے۔ کل 16 دسمبر 2014 کو دشمن نے اپنے بے رحم اور سفاک کردار کو 148 معصوم جانوں کے خون سے مزید داغدار کردیا ہے۔ 16 دسمبر پہلے بھی محب وطن پاکستانیوں کے لیے سیاہ دن تھا۔ سقوط ڈھا کہ کے زخم ابھی تازہ تھے ۔ ابھی تو کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان سے محبت کے جرم کی پاداش میں کئی بنگالیوں کو تختہ دار پے لٹکا دیا گیا ۔ کئی ایک اس جرم کی سزا جی...