نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

انسانی جذبات اور انسانی حقوق----تضاد کیوں؟

انسانی جذبات اور انسانی حقوق----تضاد کیوں؟ کیفے پر معمول کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد، شکم سیر ہونے کے لیے موجود تھی۔ چند دن پہلے ایک اردو کے معروف کالم نگار نے لکھا"اب وہ رونق اور شوق ختم ہوا جاتا ہے، جسے کہوا خانے اور چائے خانے پےماضی قریب میں دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ لوگ مہذب انداز سے بات کرتے اور سنتے تھے۔ اور یہ ذوق عام لوگوں کوبھی ان سستے کہوا خانوں پر کھینچ لاتا تھا" تعلیمی اداروں میں موجود ڈھابے اور کیفے آج بھی کسی نا کسی شکل میں اپنا تعمیری کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں موجود خیر کی ایک چھلک یہ بھی ہے۔ ہماری میز پر جیسے ہی کرسیاں خالی ہوئیں۔ قریب  ہی منتظر لڑکے فوری آ کر ان خالی کرسیوں پر براجمان ہو گے۔ ہم بھی تین دوست پہلے سے بیٹھے تھے۔ ہمارے بیچ تعلیم اور معاشرتی رویوں کی تربیت پر تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ آنے والے لڑکے بھی کسی باہمی دلچسپی کے موضوع پر بات چیت کر رہے تھے۔ "کیا آپ ہماری رہنمائی کریں گے" ایک لڑکے نے پوچھا۔۔۔ ہم میں سے ایک نے جوابا'' کہا "کیوں نہیں۔ ضرور، ہمیں خوشی ہو گی" گفتگو کا آغاز ہو چکا تھا۔ موضوع ت...

داعی دین خدا

داعی دین خدا۔۔۔۔۔۔۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ میں یونیورسٹی ہاسٹل ، اپنے ایک قریبی دوست کے روم میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اچانک ایک ساتھی نے مجھے جگاتے ہوئے کہا "قاضی صاھب کے بارے خبر آئی ہے، آپ کسی سے رابطہ کر کے کنفر م کر دیں" ایک دم نیند کافور ہوگئی۔ فورا" آصف لقمان بھائی کا نمبر ڈائل کیا۔ لاکھ خواہیش کے باوجود خبر سچی نکلی۔ اے اللہ میرے مربی ومزکی کو اپنی اعلی جنت، جنت الفردوس میں مقام بلند عطا فرما۔ آمین باقی رات قاضی صاحب سے وابستہ لمحات کویاد کرتے گزر گئی۔ صبح پشاور کے لیے روانگی ہوئی اور جنازہ میں شرکت کی۔ ہزاروں لوگ شریک تھے۔ اندورن ملک اور بیرون ممالک لاکھوں لوگوں نے قاضی صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ قاضی صاحب سے وابستہ یادیں اتنی ذیادہ ہیں کہ لکھنے بیٹھ جاوءن تو ایک وقت درکار ہوگا۔ پھر انکی شخصیت ایک عام پاکستانی سے لیکر عالم عرب و عجم تک اپنے مرید رکھتی ہے۔ مینار پاکستان کے اجتماعات عام،کشمیر کی آزادی اور ان کے حقوق کی جدوجہد اور 5 فروری یوم کشمیر کے آغاز، واجپائی کی آمد پر احتجاج، جہاد افغانستان سے جہاد کشمیر، مسلہ فلسطین سے مسلہ بوسینیا، اتحاد امت ک...

سکیورٹی الرٹ

سکیورٹی الرٹ  جب کسی علاقہ پر وہاں کے بسنے والوں کی رضامندی کے برخلاف کوئی جابر قابض ہو جائے تو ایسا خطہ مقبوضہ علاقہ کہلاتا ہے۔ جب آپ کے گھر سے بازار اور دفتر تک کی مختلف  سڑکوں کو سیکیورٹی کے نام پر لاتعداد ناکو ں میں جکڑ دیا جائےتب اسے سیکیورٹی الرٹ کہتے ہیں۔اور اگر کہیں دھماکہ ہو جائے تو ایسی صورتحال کو کیا کہا جائے گا؟ ویسے تو سرا شہر ہی قابل دید ہے۔ لیکن اس جگہ کا حسن اپنی مثال آپ ہے۔ جی میرا اشارا، اسلام آباد کے پر فضاء مقام مارگلہ ہلزکی طرف ہے۔ اسلام آباد چڑیا گھر  کے سامنے سے ایک بل کھاتی سڑک سرسبز وشاداب پہاڈی پر آپ کو لے جاتی ہے۔ یہاں پر پہلا سٹاپ اسلام آباد ہل ویو کا ہے۔ یہاں سے سارا شہرے ایک پیلاے کی مانند آپ کی ناک کے نیچے محسوس ہوتا ہے۔ یہاں سے کچھ مزید ڈرائیو کے بعد آپ ٹاپ پر پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں مارگلہ ہل کی عمودی طرف خوبصورت ریسٹورینٹ منال آپ کا استقبال کرتا ہے۔ مجھے چند سال پہلے اس جگہ کے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ واپس جاتے وقت میرا پختہ ارادہ بن چکا تھا کہ سال کےالوداعی سورج کی کرنوں کو آئیندہ برس اسی مقام سے دیکھوں گا۔ پھر یہ میرا معمول بن گیا۔...