مزدور کی آواز اور ۔۔۔ انسان کبھی غلام کی شکل میں قابل فروخت تھا۔ ساری دنیا میں، بڑے بڑے جاگیردار انسانوں کی منڈیوں سے اپنے جیسے انسان خرید کر لایا کرتے تھے۔ اور آج جدید ترقی یافتہ دور میں، جہاں گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی اہم ہیں، انسان ایک بار پھر قابل فروخت ہو گیا ہے۔ یہ خرید و فروخت کا عمل آخر کیا نتائج دینا چاہتا ہے؟ اگر سب کچھ انسان ہی کی خدمت اور خوشحالی کے لیے بنایا جا رہا ہے تو دنیا میں اتنی غربت کیوں ہے؟ اور یہ تیسری دنیا ،اور ترقی یافتہ دنیا کی تقسیم کس لیے کی گئی ہے۔ کیا یہ تقسیم کھلا تضاد نہیں؟ ایسی زندگی جس میں قابل ستائش حد تک عزت و سکون حاصل ہو۔ دو وقت کا کھانا، تن ڈھانپنے کو کپڑا اور رہنے کو مکان۔ علاج معالجہ کے لیے ہسپتال اور تعلیم کے لیے سکول ۔ خریدوفروخت کے لیے مارکیٹ اور کھیل کے لیے میدان۔محبت، پیاراور دکھ سکھ کے لیے ماں باپ، بہن بھائی اور دوست احباب کے رشتے۔ اس سب کچھ کے لیے کتنا پیسہ درکار ہو گا؟ چند سو روپے؟ کارل مارکس نے لکھا کہ سوسائٹی میں افراد کی تقسیم دو طبقات میں ہوتی ہے۔ پہلا طبقہ دولت مند اور دوسرا ط...